یاد ساحل میں سفر شہسرام از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنویتخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریفرابطہ نمبر: 9523788434فراق و ہجر میں روتی ہیں زار زار آنکھیںتمہاری دید کو ساحل ہیں بے قرار آنکھیں بروز جمعرات ٨ ربیع الاول ١٤٤٦ھ بمطابق ١٢ ستمبر ٢٠٢٤ء محب گرامی وقار شیر محمد صاحب کی معیت میں شہر تربیت شہسرام کے لیے روانہ ہوا ٩ ربیع الاول بروز جمعہ صبح کاذب بھبوا اسٹیشن پہنچا وہاں سے تقریبا ٣٠ کلو میٹر دور صبح صادق شیر محمد صاحب کے دولت خانہ میں پہنچا وضو کیا اور محلے کی مسجد میں بالجماعت نماز فجر ادا کی امامت مولانا رستم علی فیضی نے کی بعد نماز فجر و صلاۃ و سلام امام صاحب کے حجرے میں گیا اور امام صاحب سے کچھ دیر گفت و شنید ہوئی رات بھر کا جاگا ہوا تھکا ہوا تھا امام صاحب ہی کے حجرے میں لیٹ گیا ایک انوکھا خواب___________ قسمت کا ستارہ چمکا مقدر نے انگڑائی لی سر کی آنکھیں کیا بند ہوئیں کہ دل کی آنکھیں کھل گئیں سامنے سے حجابات اٹھا دیے گئے اور میں نے خواب دیکھا کہ میں پیکر و اخلاص و وفا زینت مسند افتاء ماہر جزئیات فقہیہ خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ حامل زید و تقی عاشق احمد رضا پروردۂ جامعہ اشرفیہ معتمد خانقاہ صغرویہ نوردیدۂ مارہرہ حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی قادری ضیائی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی کے مزار پر انوار پر حاضر ہوں ہر طرف چہل پہل ہے خوشگوار ہوا چل رہی ہے میں نے تفتیش کی کہ آخر اتنی چہل پہل اور فضا معطر معطر کیوں ہے تو پتہ چلا کہ محبوب خدا خاتم الانبیاء صاحبِ تاجِ “قاب قوسین او ادنی” جلوۂ والضحی جان جود و عطا شہنشاہ ہر دوسرا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم علامہ ساحل شہسرامی کی قبر پاک میں تشریف لائیں ہیں یہ جان کی میری خوشی کی انتہا نہ رہی گویا کہ قمست کی معراج ہو گئی اس کے بعد دیکھتا ہوں کہ علامہ ساحل شہسرامی اپنی قبر پاک سے باہر ایک کرسی میں تشریف فرما ہیں لوگ آتے ہیں ملتے ہیں چلے جاتے ہیں میں بھی وہیں قریب کھڑا تھا ان کی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں بے ساختہ رو پڑا وہ بھی رونے لگے میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ جسیم نے لکھی ہے میرے ہاتھ سے لے لی دیکھتے ہیں یہ کتاب تو “طارق ابن زیاد” ہے تو وہ مجھ سے فرمانے لگے کہ تم بھی ایسی کتاب یعنی طارق ابن زیاد کی سوانح عمری لکھ سکتے ہو البتہ تمہارا نہج الگ ہوگا پھر چند لوگوں نے اپنی اپنی کتابیں حضرت کی بارگاہ میں پیش کی حضرت نے دیکھ کر سب کے بارے میں چند کلمات بھی فرمائے [مفہوما خواب مکمل ہوا] حجرے میں شیر محمد صاحب داخل ہوئے جس کی آہٹ سے میری آنکھ کھل گئی وہ میرے پاس کرسی میں بیٹھے میں نے ان کو اپنا خواب سنایا پھر دونوں گھر گئے اور ناشتہ کیے بعدہ غسل اور دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ مسجد آئے اذان اول ہو چکی تھی سنت ادا کر کے بیٹھے ہوئے تھے کہ امام مسجد مولانا رستم علی ضیائی تقریر کرنے کا حکم دیا حقیر فقیر سراپا تقصیر غفر لہ المولی القدیر نے تقریبا ٢٥ منٹ تک حسن مصطفی اور ناموس مصطفی پر تقریر کی پھر بعد نماز جمعہ مدرسے میں نشست لگی جس میں مقتدیوں نے ایمان و کفر، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نیز گاؤں میں نماز جمعہ وغیرہ سے متعلق سوالات کیے راقم الحروف نے سب کے جوابات دیے جنھیں سن کر سائلین بہت خوش ہوئے اور مطمئن ہوئے شہسرام کا سفر___________ بریلی، ممبئی، مارہرہ، بلگرام، اجمیرکہاں کہاں تجھے ڈھونڈے یہ سوگوار آنکھیںدرون دل سے ندا آئی شہسرام چلیںوہیں پہ ٹوٹے گی زنجیر انتظار آنکھیں دو پہر کا کھانا کھایا اور تھوڑی دیر قیلولہ کے بعد شہر شہسرام کے لیے شیر محمد صاحب کے ساتھ روانہ ہوگیا راستے میں رمجھم رمجھم رحمت کی بارش ہو رہی تھی جس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سب سے پہلے مدرسہ خیریہ پہنچا وہاں وضو کرکے مسجد میں نماز عصر ادا کی مسجد میں ایک بزرگ اوراد و وظائف میں مشغول تھے ان سے سلام و مصافحہ کیا اور علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے دوران گفتگو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جس کام کے لیے چن لیا تھا وہ اپنے حصے کا کام کر کے چلے گئے پھر ان سے کہا کہ ہمیں مزار شریف پر جانا ہے تو انھوں نے مدرسے کے ایک طالب کو ساتھ دے دیا ہم اس کے ساتھ مزار پر انوار پر پہنچے وہاں پر ایک بوڑھا شخص تھا اس نے بتایا کہ مفتی صاحب جو چند دنوں پہلے وفات کیے ان کا مزار شریف یہ ہے نظر پڑتے ہی آنکھیں اشکبار ہو گئیں گلے میں ہچکی سی بندھ گئی گیا تو ناگہاں اشکوں کا بندھ ٹوٹ گیا جو دیکھیں سامنے ان کی بنی مزار آنکھیں کچھ دیر تک ساکت و جامد کھڑے ہو کر مزار شریف کو دیکھتا ہی رہا دل کہہ رہا تھا ایک وقت تھا جب سامنے آتے تھے مسکراتے ہوئے ملتے تھے مصافحہ کرتے تھے علمی گفتگو سے مشام جان کو سرشار کرتے تھے ان کے انداز تکلم سے بہرور ہوتے تھے قیمتی باتوں سے فیضیاب ہوتے تھے جب وہ کسی سوال کا جواب دیتے تو لگتا کہ بحر ذخار موجیں مار رہا ہو لیکن آج وہ سمندر تھم گیا تھا روانی نہیں دکھ رہی تھی میں بول رہا تھا لیکن کوئی آواز مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی وہ محو خواب تھے جنت الفردوس کی بھینی بھینی ہواؤں سے مستفیض ہو رہے تھے میں نے اپنے دل کو سمجھایا آنکھیں رو رو کے سجانے والے جانے والے نہیں آنے والے خود کو سنبھالا اور مزار شریف کے ایک کنارے میں بیٹھ گیا محبوب کی تربت پر چند محبت کے پھول ڈالے فاتحہ پڑھی دعائیں کی آج وہ لمحات یاد آ رہے تھے کہ جب شب قدر آتی یا شب برات آتی تو حضرت مجھے مسیج کرتے کہ بیٹا اس رات میں میرے لیے بھی خصوصی دعا کرنا آہ آج وہ تہ مزار چلے گئے اور میں ان کے لیے دعا کر رہا ہے تھا گویا اپنی قسمت سنوار رہا تھا تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد پھر حسرت بھری نگاہوں سے مزار شریف کو دیکھتا ہوا واپس ہو گیا دل کی دنیا میں عجب کہرام برپا تھا آنکھیں نم تھیں جگر شکستہ تھا دلِ جسیم پہ کیا گزری اس گھڑی دیکھوبتا رہی ہے مری دونوں اشکبار آنکھیںعلامہ ساحل شہسرامی کے والد ماجد سے ملاقات _______ قریبی دکانداروں سے علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے گھر کے بارے میں پوچھا تو ایک دکاندار نے کرم فرمائی کی ہمیں اپنے ساتھ حضرت کے گھر پر لے گئے اندر سے ایک ضعیف و ناتواں گورا رنگ قدرے اونچا قد سفید ریش شخص قیمتی جوہر کے جوہری یعنی علامہ ساحل شہسرامی کے والد گرامی اشفاق صاحب قبلہ دام ظلہ العالی بر آمد ہوئے انھوں نے ہمارے بارے دریافت کیا تو شیر محمد صاحب نے انھیں سب کچھ بتایا کہ ہم جامعۃ الرضا سے آئے ہیں اور قدرے تعارف کرایا تو انھوں نے اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہم اندر پہنچے یہ وہی جگہ تھی جہاں علامہ ساحل شہسرامی صاحب تشریف فرما ہوتے تھے وہاں حضرت کی چند کتابیں رکھی ہوئیں تھیں اور دو ایوارڈ تھے جنھیں دیکھ کر حضرت کے والد ماجد اپنی آنکھوں کو تسکین بخشتے رہتے ہیں اب وہ تو نہیں رہے لیکن ان کی یادگاریں قیانت تک باقی رہیں گی وہ خدمات دینیہ کے طفیل ہمیشہ عوام و خواص کے دلوں میں زندہ رہیں گے نیز محسوس ہو رہا تھا کہ گھر کے افراد بیمار ہیں حضرت کے والد ماجد سے خیریت دریافت کی تو فرمایا کہ ابھی تو گھر کے حالات ایسے ہیں کہ کھانے پینے کا دل نہیں کرتا ہے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) گھر کے بڑے لڑکے تھے ساری ذمہ داری انھیں کے سر تھی انھیں گھر چلانا اچھی طرح آتا تھا اب جو وہ چلے گئے تو بڑی دقتیں آ گئیں ہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا کروں ؟ اتنی مشکلات میں ہونے باوجود خندان پیشانی کے ساتھ ملے اعلی اخلاق کا مظاہرہ کیا ایسا لگا کہ ان سے ہماری برسوں کی جان پہچان ہے ہمیں عمدہ ناشتہ کرایا میں نے منع کیا کہ رہنے دیں آپ تکلیف نہ اٹھائیں تو انھوں نے فرمایا کہ گھر میں یونہی اداس بیٹھا رہتا ہوں آپ حضرات آئے تو بہت خوشی ہوئی اچھا لگا اب آپ حضرات ہی ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی یادگار ہیں پھر حضرت کی کتابوں کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا کہ وہ کتابیں جس کا کام باقی رہ گیا ہے یا لکھتے لکھتے ادھوری رہ گئیں ہیں تو وہ سب لیپ ٹاپ میں ہے اور وہ تو مجھے چلانے نہیں آتا ہے مفتی شبیر صاحب نے کہا تھا کہ جن کتابوں میں حضرت کام کر رہے تھے اور وہ ادھوری رہ گئی ہیں تو ہم ان کی تکمیل کریں گے اور اگر چھپی نہیں ہیں تو ہم چھاپیں گے ابھی تو ذہنی طور پر پریشان ہیں تھوڑا وقت گزر جائے پھر دیکھیں گے ساحل کی تعلیمی کہانی ان کے والد کی زبانی_________ پھر شیر محمد صاحب نے پوچھا کیا حضرت حافظ بھی تھے ؟ تو حضرت کے والد ماجد نے جواب دیا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) نے پندرہ پارہ حفظ کیا تھا اس نے تعلیم حاصل کرنے میں بڑی مشقتیں اٹھائی ہیں درس نظامی کے دوران کیسے حافظ بنتا پھر بھی پندرہ پارہ تک کوشش کی اس کی ابتدائی تعلیم کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ ایک بار شہسرام میں جلسہ ہوا اس میں ایک عالم دین بہت ہی اچھی تقریر کی جو عوام کو بہت پسند آئی بعض حضرات نے دوسرے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا اور ان کی دوبارہ تقریر ہوئی جس کو سن لوگ بہت متاثر ہوئے وہیں سے ایک کیمیٹی بنی کہ ہر سال وہ کمیٹی جلسہ کرائے گی ایک سال کمیٹی والوں نے محدث اعظم مراد آبادی حضور حافظ ملت علامہ مفتی عبد العزیز رحمہ اللہ کو مدعو کیا آپ علیہ الرحمہ تشریف لائے اور پر مغز خطاب فرمایا جس میں دوران خطاب آپ نے فرمایا کہ آج ملک میں ہر طرف فتنے پیر پھیلا رہے ہیں اسے روکنے کے لیے ہم نے کیا لائحۂ عمل تیار کیا ؟ کیا تمام علماء کرام متحد ہو کر تبلیغ کریں تو یہ فتنے ختم ہو جائیں گے؟ پھر آپ نے فرمایا میرے نزدیک اسے روکنے کا بہتر طریقہ یہ ہے ہر گھر میں ہر باپ کم از کم اپنے ایک بیٹے کو عالم دین بنائے اکثر دیکھا جاتا ہے جو گھر میں کند ذہن ہوتا ہے اسی کو والدین مدرسے میں ڈال دیتے حلانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ذہین و فطین بیٹے کو مدرسے میں پڑھنے کے لیے دیں تاکہ وہ صحیح طور تبلیغ دین کے فرائض انجام دے سکے یہ بات میرے ذہن و دماغ میں نقش کر گئی میں نے ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کا مدرسہ خیریہ شہسرام میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ کر دیا شہسرام میں لعل محمد صاحب کے یہاں حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی آمد و رفت رہتی تھی حافظ ملت سے لعل محمد صاحب کے تعلقات اچھے تھے میں نے ان سے کہا کہ میرے بیٹے ارشاد کا داخلہ جامعہ اشرفیہ میں کروا دیجیے انھوں نے کہا ٹھیک ہے کروا دوں گا ارشاد کو اپنے ساتھ لعل محمد صاحب جامعہ اشرفیہ لے گئے داخلے کی کاروائی کی تاریخ ختم ہو چکی تھی پھر بھی حضور حافظ ملت کے صاحب زادے سے ملے وہاں چند علما اور بھی تشریف فرما تھے ان کی موجودگی میں لعل محمد نے انھیں ساری باتیں کہہ سنائی تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے اور ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو تو ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو نشست میں موجود علماء کرام ارشاد کی کم عمری کو دیکھ کر مسکرانے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ گلستاں بوستاں پڑھتا ہوگا ہو سکتا ہے اس نے فارسی کی پہلی دوسری کو گلستاں بوستاں سمجھ رکھا ہو تو انھوں نے دوبارہ ارشاد سے پوچھا بیٹا کیا پڑھتے ہو پھر ارشاد نے کہا گلستاں بوستاں تو انھوں نے کہا کیا پڑھ کر سنا دوگے ارشاد نے کہا ہاں سنا دوں گا ایک طالب علم سے کہا بیٹا جاؤ گلستاں بوستاں لے آؤ وہ لے آیا اور ارشاد سے کہا چلو پڑھ کر سناؤ جب ارشاد نے پڑھ کر سنایا تو سب دنگ رہ گئے اور ایک دوسرے کے منہ تکنے لگے کہ اتنا چھوٹا بچہ اور اتنی اچھی فارسی پڑھتا ہے ایں سعادت زور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہاس کے بعد ارشاد کا جامعہ اشرفیہ میں داخلہ ہو گیا وہ بڑی محنت و جفا کشی کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہا تھا کہ دوران تعلیم اس کی ماں کا انتقال ہو گیا جس کے غم و الم سے وہ بہت نڈھال ہوا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ ارشاد کو اب گھر میں ہی رکھیے اور اپنے کام کاج میں ان سے سہارا لیجیے اگر چہ اس وقت میرا ہاتھ تنگ تھا لیکن اس کے باوجود میں نے کہا نہیں میں ایسا نہیں کروں گا میں اپنے لخت جگر نور نظر کو پڑھاؤں گا پھر بحمدہ تعالیٰ اس نے درس نظامی کی تکمیل کی دستار فضیلت کے حسین و پر بہار موقع پر میں بھی جامعہ اشرفیہ گیا تھا پھر وہیں سے تحقیق و افتا کی پڑھائی کی اس کی لیاقت و صلاحیت کو دیکھتے ہوئے جامعہ اشرفیہ ہی میں بحیثیت مدرس رکھ لیا گیا روح کا گھر میں آنا اور ایک مجذوب کی حکایت_______ اب اس کی روح آتی ہے تو مجھے ایک قسم کی خوشبو محسوس ہوتی جس سے میں سمجھ لیتا ہوں کہ میرے بیٹے کی روح گھر آئی ہے میرے عہد طفولیت میں ایک مجذوب بزرگ شہسرام میں تھے جن کا نام شاہ عبد اللہ تھا انھیں کھانے پینے کی کوئی فکر نہیں رہتی تھی اگر کسی نے کھلا دیا تو کھا لیا کسی نے پلا دیا تو پی لیا نہیں تو اپنے دھن میں رہتے تھے ان کے کپڑے خوب میلے مٹیالے ہوتے تھے تیل اور میل کے ملنے کی وجہ سے کپڑوں میں گانٹھ پڑ جاتا تھا لیکن کبھی ان کے جسم سے بدبو نہیں آتی تھی بلکہ خوشبو آتی تھی میں نے ان کا سر دبایا ہے اور بھی لوگ ان کی خدمت کیا کرتے تھے ایک دن میں نے کتاب میں پڑھا کہ ایک بزرگ سے کسی نے کہا کہ ولی را ولی می شناسد ولی ولی کو پہچان لیتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو ولی نہ ہو وہ کیسے کسی ولی کو پہچانے گا ؟ تو بزرگ نے جواب دیا اگر کوئی ولی ہوگا تو اس کے جسم سے خوشبو آئے گی اور اگر خوشبو نہ آئے تو کبھی بھی اس کے بدن سے بدبو نہیں آئے گی تب مجھے یاد آیا کہ حضرت شاہ عبد اللہ کے بدن سے جو خوشبو آتی تھی وہ در حقیقت ولایت کی خوشبو تھی آج جب ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی وفات ہوئی تو مجھے ویسے ہی خوشبو محسوس ہوتی ہے علاوہ ازیں اور بھی بہت ساری گفتگو ہوئی بعدہ علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے والد ماجد سے واپسی کی اجازت چاہی تو آپ نے دعائیں دیں کہ اللہ جل جلالہ آپ کو ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) کی طرح دین کی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ان کی باقیات کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے پھر اس کے بعد واپسی کی اجازت مرحمت فرمائی سلام و مصافحہ کے بعد ہم لوگ گھر سے باہر نکلے ابھی گلی میں ہی تھے کہ وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ آپ نے اپنا نام کیا بتایا میں نے کہا جسیم اکرم تو آپ نے فرمایا جسیم میں نے کہا ہاں تو فرمایا کہ ارشاد (علامہ ساحل شہسرامی) آپ کا کبھی کبھی تذکرہ کرتے تھے جسیم کہہ کر تو مجھے ابھی یاد آیا اس لیے میں کہنے کے لیے آیا اس محبت بھرے جملے نے اور ان کی شفقتانہ کردار نے میرے وجود کو بے انتہا مسرت و شادمانی فراہم کی میں اس بے لوث محبت کو الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر ہوں بس اللہ جل جلالہ وحدہ لاشریک کی بارگاہ بے نیاز میں دعا گو ہوں کہ اللہ جل و علا حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو خصوصاً والد ماجد اشفاق صاحب قبلہ کو اور کے تمام محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم




