*شب قدر کی قدر کیجئے*
امام اہلسنت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہ رسالت مآب میں عرض گزار ہے یا رسول اللہ
ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی کوئ کمیm1
سرورا تم پہ کروڑوں درودm2
اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر واحسان ہے کہ اس نے ہماری زندگی دراز فرماکر رمضان المبارک کا برکت ورحمت والا مہینہ عطا فرمایا اور اس میں شب قدر جیسی عظیم رات ہمیں عطا فرمائ ہے تاکہ عبادت و ریاضت معافی واستغفار طلب کرکے اللہ کا قرب حاصل کریں
اس رات بندوں کے تمام احکام نافذ ہوتے ہیں فرشتوں کو سال بھر کی خدمات پر مامور کیا جاتا ہے اس لئے بھی اس کو شب قدر کہتے ہیں نیز یہ رات دیگر راتوں پر فضیلت و برتری رکھتی ہے نیک اعمال کی مقبولیت آج کی رات کے نیک اعمال کی اللہ کی بارگاہ میں قدر ومنزلت کے پیش نظر بھی شب قدر کہا جاتا ہے
یہ شان والی رات ہمیں مصطفی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے طفیل ملی ہے پیارے حبیب کی جناب میں چار نفوس قدسیہ حضرت ایوب ، حضرت زکریا ، حضرت حزقیل ،حضرت یوشع بن نون علیھم السلام کی عبادت کا تذکرہ ہوا کہ اسی برس عبادت الٰہی میں گزارے ایک لمحہ بھی خدا کی نافرمانی میں نہیں گزرا صحابہ کرام حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے تمنا آرزو کرنے لگے کاش ہماری عمر بھی لمبی ہوتی ہم بھی اس قدر عبادت کرتے حضرت جبرئیل امیں علیہ السلام ارشاد خداوندی لے کر حاضر بارگاہ ہوگئے کہ آپ کے اصحاب آرزو تمنا کررہے ہیں لمبی عمر کی دعائیں کررہے ہیں یا رسول اللہ آپ انھیں مژدہ سنا دیجئے کہ اللہ نے ان پر احسان عظیم فرمایا ہے آپ کی امت کو ایک رات ایسی تحفے میں عطا فرمائ ہے جس کو لیلۃ القدر کہا جاتا ہے اور وہ خیر من الف شھر ایک ہزار مہینوں سے بھی بڑھ کر ہے یعنی سابقہ امت کے افراد کی ایک ہزار مہینے کی عبادت اور آپ کے امتی کی ایک رات کی عبادت اس سے بہتر ہے
مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’یہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے حبیب (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر کرم ہے کہ آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ) کے اُمتی شبِ قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی اُمت کے ہزار ماہ عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو
رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان
اے امتیوں رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو
جمہور کا موقف یہ ہے کہ 27 کی رات شب قدر کی ہے امام اعظم کا بھی قول یہی ہے نیز امت محمدیہ بھی اس رات خاص اہتمام کرتی ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے
یہ راتیں ہماری زندگی میں بار بار دامن کو مشکبار کرنے نہیں آتیں گزشتہ شب قدر کتنے اپنے تھے جو اس وقت زیر زمین ہے آج کل کے ٹال مٹول میں باران رحمت سے دامن بھرنے کا موقع پھر ہاتھ لگے نا لگے کسے معلوم ہے اس لئے اس رات ہنسی مزاق ، سیر و تفریح ، ہوٹل بازی ، موبائل بینی ، وقت گزاری بالکل نا کریں اخلاص کے ساتھ بارگاہ الٰہی میں سر بسجود ہوں ، قضا نمازوں کی ادائیگی ، نوافل کی کثرت، درود شریف کا ورد ، اللہ کا ذکر ، معافی استغفار بخشش طلبی ، رجوع الی اللہ میں مشغول رہیں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے ایمان و اخلاص کے ساتھ اس رات اللہ کی عبادت کی اللہ تعالی اس کے سابقہ گناہوں کو بخش دیتا ہے
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا توحضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ آیا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ،جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں سے محروم رہا اور محروم وہی رہے گا جس کی قسمت میں محرومی ہے
اور حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب شبِ قدر ہوتی ہے تو حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام فرشتوں کی جماعت میں اترتے ہیں اور ہر اس کھڑے بیٹھے بندے کو دعائیں دیتے ہیں جو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کررہا ہو۔
اس رات خشوع خضوع کے ساتھ اپنے رب کے حضور گڑگڑانا چاہئے توبہ کرنا چاہئے یاد رکھئے تنہائ میں خشیت الٰہی سے نکلا آنسو دنیا کی تمام موتیوں سے بیش قیمت اور خدا کے یہاں لائق قدر ہے
دعائیں کیجئے دعائیں مانگئے
حدیث میں ہے اللہ رب العزت نزول اجلال فرماتا ہے اور اپنے دست قدرت کو دراز فرماتا ہے کہ دن میں گناہ کرنے والا رات کو توبہ ورجوع کرکے دست قدرت کے سائے میں آ جائے اور دن میں دست قدرت دراز فرماتا ہے کہ رات کو خطا کرنے والا دن میں توبہ کرکے امن وامان حاصل کرلے
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :،میں نے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو اس رات میں مَیں کیا کہوں ؟ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ‘‘اے اللّٰہ!،بے شک تو معاف فرمانے والا،کرم کرنے والا ہے،تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔
اللہ کے رسول نے فرمایا توبوا الی اللہ اللہ کی طرف رجوع لاؤ ، اللہ سے غافل نہ ہو اس کی بارگاہ میں توبہ کرو میں دن میں ستر مرتبہ توبہ کرتا ہوں
حالانکہ مصطفی کریم معصوم عن الخطا ہیں آپ سے خطا کا صدور محال ہے اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ کے صدقے آپ کی امت کے بھی گناہ بخشے جائیں گے لیکن پھر بھی تعلیم امت فرماتے ہیں اور عملی جامہ پہنا کر امت کو درس دے رہے ہیں کہ کس قدر اے امتیوں تمہیں معافی طلب کرنا چاہئے
اللہ تعالی ہماری عبادات کو قبول فرمائے آج کی اپنی خاص دعا میں فقیر کے علم و عمل خاتمہ بالخیر کی ضرور دعا فرمائیں
✍️ ہشام الدین قادری مرکزی
✔ مضمون کاپی ہو گیا















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As