کتاب بہترین ہمنشیں ہے رات کی تاریکی میں اک جہان سوتا ہے اک جہان جاگتا ہے لیکن جاگنے کا انداز الگ ہوتا ہے کوئی محبوب کی آغوش میں جاگتا ہے کوئی کتابوں کی حسین پر کیف بہاروں میں جاگتا ہے محبوب ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ محبوب میں حواس خمسہ [قوت سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ، باصرہ] کی پر لطف صلاحیت ہو بلکہ محبوب تو ہر وہ شئی ہے جس سے محبت ہو جاتی ہے خواہ وہ صاحب حواس خمسہ ہو یا نہ ہو لیکن ان اشیا میں بھی سب سے بہترین محبوب کتاب ہے جو کبھی آپ کو تنہا نہیں چھوڑتی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتی ہے کبھی یاد بن کر کبھی ساتھی بن کر آپ کے ذہن و دماغ میں طرح طرح کی باتیں ازبر کراتی ہے کبھی آپ روٹھ جاتے ہیں تو ہنساتی ہے رات کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں اک جہان محبوب کی زلفیں سنوارنے میں مصروف رہتا ہے لیکن وہیں کوئی خوش بخت ایسا بھی ہے جو کتابوں کی ورق گردانی میں مصروف رہتا ہے کوئی دیدار یار سے اپنی بے تاب نگاہوں کو تسکین فراہم کرتا ہے تو کوئی کتابوں کے سنہرے الفاظ کی دید سے آنکھوں کو جلا بخشتا ہے کوئی شب دیجور میں محبوب سے ہمکلام ہوتا ہے شوخ باتیں کرتا ہے تو کوئی کتابوں سے محو گفتگو رہتا ہے اور مسائل کی گتھیاں سلجھاتا ہے یہ بہت ہی پرکشش دلفریب منظر ہوتا ہے کہ وہ کبھی علامہ شامی سے گفتگو کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے، آپ سوچتے ہوں گے یہ کیسے ہو سکتا ہے تو سنیں یہ ضرور ہو سکتا ہے آپ بھی اپنے محبوب بزرگوں سے لو لگائیں انھیں دنیائے تصورات میں لائیں اور پھر ہمکلام ہو جائیں رد المحتار فتاوی رضویہ کی حسین وادیوں میں گم ہو جائیں ہمارے درمیاں علامہ ابن عابدین شامی نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی شامی، رسم المفتی کی شکل میں ہیں ہمارے درمیاں ملا جیون احمد نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں تفسیرات احمدیہ کی شکل میں ہیں ہمارے درمیاں اعلی حضرت امام احمد رضا خان تو نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں فتاوی رضویہ کی صورت میں ہیں ہمارے درمیاں صدر الشریعہ نہیں ہیں لیکن ان کی یادیں بہار شریعت کی شکل میں ہیں ان کتابوں کو دیکھنے کے بعد آنکھوں کو سکون ملتا ہے دل کو چین ملتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو جب ایک بیٹے کے پاس مہینوں بعد خط آتا ہے ہے تو بیٹا کتنا خوش ہوتا ہے اور جب وہ خط پڑھتا ہے تو یہ نہیں سوچتا ہے کہ میں محض ایک تحریر جو لفظوں کی موتیوں میں پروئی گئی ہے اسی کا مشاہدہ کر رہا ہوں بلکہ اسے لگتا ہے میرے والد بزرگوار میرے سامنے بول رہے ہیں اور میں سن رہا ہوں یہ خط نہیں میرے والد کا درد ہے جو اس میں پنہاں ہے پھر ہر ہر لفظ بیٹے کے دل سے چھو جاتا ہے بس ایسے ہی کسی کے لیے کتابیں ہیں وہ سوچتے ہیں کہ یہ کتابیں میرے لیے میرے بزرگوں نے لکھی ہے جو کہ ایک خط ضخیم جلدوں کی صورت میں ہے پھر وہ کبھی علامہ شامی سے بات کرتا ہے تو کبھی اعلی حضرت سے کبھی رات کی تاریکی میں وہ صدر الشریعہ کی شفقتیں دیکھتا ہے کہ ان کو میری طہارت و عبادت کی کتنی فکر تھی وہ میرے لیے کیا کیا جواہر پارے چھوڑے ہیں اور آنکھیں نم ہو جاتیں ہیں بزرگوں کی شفقتوں کو یاد کر کے کوئی شب کی سیاہی میں محبوب کا بوسہ لے کر محو خواب ہو جاتا ہے تو کوئی سرہانے رکھے کتاب کا بوسہ لے کر روح حیوانی کو مذکورہ بالا یادوں کی سیر و سیاحت کے لیے بھیج دیتا ہے ہاں اک جہان جاگتا ہے لیکن انداز الگ الگ ہوتا ہے از: محمد جسیم اکرم مرکزی تاریخ 18/08/2024















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As