نسب بدلنے والا لعنت کا مستحق ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس دور پر فتن میں جہاں لوگ طرح طرح کے فتنوں میں گھر ے ہوے ہیں، قسم قسم کی بیماریاں مسلم معاشرے کے اندر جوش و خروش کے ساتھ پنپ رہی ہیں، متعدد شکل و صورت کی وبائیں۔ ایمان والوں کے اندر اپنا گھر کر رہی ہیں، وہیں کچھ مخصوص طالب شہرت جھوٹی ناموری کے خواہاں، شرم نبی و خوف خدا کو خاطر میں نہ لینے والے لوگوں کے اندر ابدال نسب و ادعاء سیادت کی بیماری بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جن کا پردہ فاش ہونے پر غیر سید کی معزز نگاہوں میں اصلی سادات کرام بھی مرکز شکوک و شبہات ہو کر رہ جاتے ہیں اور ان سیادت کے جھوٹے دعوے کرنے والے جعلی سیدوں اور اپنے باپ بدلنے والے بے غیرت لوگوں کی نفس پرستی ہی کا نتیجہ ہے کہ اک اصلی سید بھی آج جب کسی کو اپنی سیادت کی خبر دیتا ہے تو سامنے والا شخص سوچنے لگتا ہے کہ یہ بھی تو اس جعلی سید کی طرح نہیں ہے ؟، ایسی صورت حال میں اس غلط فہمی اور سوۓ ظن کا ذمہ دار کون ہوگا ؟ یقینا وہ جھوٹے دعوے کرنے والے جعلی سیدوں کی پوری ٹولی ہوگی جن کو کل بروز محشر تمام سیدوں کے نانا حضور پرنور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینا پڑے گا لیکن جواب دیتے نہیں بنے گانہ جانے لوگ کیوں اپنا نسب تبدیل کرتے ہیں نہ ہونے پر بھی سید خود کو جو سید بتاتے ہیں از۔ نور نواز ناشدسید کا معنی و مفہومسید عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے سردار، پیشوا رہبر، بزرگ، کنایۃ حضرات حسنین کریمین کی اولاد طیبات ہیں،اورکہیں پر بھی لفظ سید کا ذکر قوم کے طور پر نہیں ہے بلکہ قرآن پاک میں اس لفظ کو سردار، پیشوا، معزز کے معنی میں ہی لیا گیا ہے چاہے وہ قوم مسلم کا رہبر و رہنما ہو یا غیر کا سردار و پیشوا جیسا کہ قرآن پاک میں مذکور ہے جبکہ مجرم و کفار اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں معذرت کرتے ہوے کہیں گے وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَارَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا ۔اور لسان العرب میں بھی اس کا معنی __ والسید یطلق علی الرب والمالک والشریف والفاضل والکریم والحلیم ومحتمل أذی قومہ والزوج والرئیس والمقدم، وأصلہ من ساد یسود فہو سیود ۔اور امام شمس الدین سخاوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : عمر بن أَحْمد بن يُوسُف العباسي الْحلَبِي الْحَنَفِيّ وَيعرف بالشريف النشابي جَريا على مصطلح تِلْكَ النواحي فِي عدم تَخْصِيص الشّرف ببني فَاطِمَۃ بل يطلقونه لبني الْعَبَّاس بل وَفِي سَائِر بني هَاشم ۔ترجمہ : یعنی عمر بن احمد بن یوسف العباسی الحلبی الحنفی (شریف) سید نشابی کے نام سے معروف ہیں ان علاقوں کی اصطلاح کے مطابق کہ (سید کے اطلاق میں) اولادِ فاطمی کی تخصیص نہیں کرتے بلکہ بنی عباس بلکہ تمام بنی ہاشم پر سید کا اطلاق کرتے ہیں ۔ الضوء اللامع لأهل القرن التاسعاسی لئے قرون اولی میں تمام بنو ہاشم کو سید کہاجاتا تھا چاہے وہ جعفری ہوں یا عباسی ہوں یا پھر علوی لیکن بعد میں لفظ سید اولاد حضرات حسنین کریمین کے ساتھ مختص ہو گیا اور عرف میں انہیں دو مقدس ذات کی اولاد با برکات کو سید کہا جانے لگا جیسا کہ فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں ہے- وھم -يعني الأشراف . ولد علي وعقيل وجعفر والعباس كذا مصطلح السلف وإنما حدث تخصيص الشريف بولد الحسن والحسين في مصر خاصۃ من عهد الخلفاء الفاطميين ۔ جلد _١_ص_۵۲۲اور الفقيہ النسابة أحمد بن محمد الحموي الحنفي رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : الشريف في العرف الآن ھو من ينتسب إلي الحسنين ۔ترجمہ : اب عرف میں سید وہ ہے جس کا نسب حسنین کریمین رضی اللہ عنہما سے ملتا ہے ۔ الدر النفيس في نسب الإمام محمد بن إدريس اور فتاویٰ رضویہ میں ہے کہ سبطین کریمین کی اولاد ہی سید ہیں نہ کہ بنات فاطمۃ الزہراء کی اولاد کہ وہ اپنے والد وں ہی کی طرف نسبت کی جائیں گی جلد ۱۳ ص۳۶۱ یہاں تک یہ بات روز روشن و آفتاب نیم روز کی مانند ظاہر و باہر ہو گئ کہ لفظ سید اب اولاد حضرات حسنین کریمین کے ساتھ ہی خاص ہے اور انہیں ہی سید کہا جاتا ہے اور کہا جاۓ گا اور جن لوگوں نے اپنے نسب کی خباثت چھپانے کے لئے اور جھوٹی شہرتیں کمانے کے لئے اپنی جیبیں بھر نے کے لئے اپنے آپ کو سید کہتے ہیں وہ حضرات اپنی گردن میں لعنت کا طوق باندھنے کے سوا کچھ نہیں کرتے اور یہ بات دھیان میں رہے کہ سلسلہ نسب صرف باپ سے چلتا ہے کسی کا خادم ہوجا نے سے مخدوم سے خادم کا نسب نہیں جڑ جاۓ گا اور نہ ہی کسی مزار پاک کا مجاور بن کر جاڑو پوچھا لگانے سے صاحب مزار سے مجاور کا نسب منسلک ہو جائے گا اور نہ ہی اپنے گاؤں اور محلہ میں مزار ہونے سے صاحب مزار سے نسب جڑ جاۓ گا اگر چہ جھوٹا دعویٰ کرکے مجاور اور گاؤں والے اپنا نسب صاحب مزار سے جوڑنے کی لاکھ سعی پیہم کرلے خوف خدا کو بھول کر جھوٹی شہرت کمانے کی خاطر اپنے آپ کو سید کہلوا لے لیکن وہ ہر گز سید نہیں ہو سکتا اور سید نہ ہوتے ہوۓ سید لکھوانے کہلانے کا وبال صد فیصد اس کے سر ہوگا ایسی صورت حال میں جس کے بارے میں دلائل و براہین کے ساتھ پورا یقین ہو کہ یہ سید نہیں ہے پھر بھی وہ سید لکھوا رہا ہے تو ایسے کی سرکو بی بے حد لازم و ضروری ہے جس سے اصلی سادات کرام کا وقار بر قرار و بحال رہے اور ایسے مکار و فریبی کی مکر و فریب سے قوم محفوظ و مأمون رہے یہ دنیا فانی ہے اک دن فنا ہونا ہی سب کو ہے تو دنیا میں یہ جھوٹی شہرتیں کیوں کر کماتے ہیںاز نور نواز ناشدسیادت کا جھوٹا دعویٰ اور اس کا وبال حقیقت میں سید نہ ہونے کے با وجود اپنے آپ کو سید لکھنا کہلوا نا بڑا گناہ ہے اور حدیث پاک میں اس کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہیں کہیں ملعون کہا گیا تو کہیں عدم دخول جنت کی وعیدوں سے ڈرایا گیا، من ادعیٰ الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملٰئکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ منہ یوم القیامۃ صرفا ولا عدلا ترجمہ۔ جو اپنے باپ کے سوا دوسرے کی طرف اپنے آپ کو نسبت کرے اس پر خدا اور سب فرشتوں کی لعنت ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا نہ فرض قبول کرے گا نہ نفل ،تو دوسری جگہ عدم دخول جنت کے خوف سے ڈرایا گیا ،عن سعد رضي الله عنه ، قال سمعت النبي صلى الله عليه وآلہ وسلم ، يقول من ادعى إلى غير أبيه ، وهو يعلم أنه غير أبيه ، فالجنة عليه حرام ترجمہ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوۓ سنا کہ جو شخص دیدہ و دانستہ اپنے باپ کے سوا کی طرف اپنے نسب کا دعویٰ کرے تو اس پر جنت حرام ہے اور دوسری جگہ پر ارشاد ہے، عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من ادعیٰ الی غیر ابیہ اؤ انتمی الی غیر موالیہ فعلیہ لعنۃ اللہ المتتابعۃ الی یوم القیامۃ _ الترغیب والترہیب صفحہ _۷۷۸ان تمام وعیدات و ترہیبات سے واضح ہو گیا کہ جھوٹی ناموری و عارضی شہرت کی خاطر اپنا باپ بدل کر اپنے آپ کو سید کہلا کر کس قدر اپنے نفس پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں اور اپنے آپ کو تباہی و بربادی کی قعر عمیق میں بے خوف و خطر جھونک رہے ہیںرسول پاک کا فرمان عالیشان جھٹلا کر تباہی کے گڑھے میں اپنا مسکن جو بناتے ہیں از۔ نور نواز ناشد تمہاری یہ جھوٹی سیادت آج تو تمہیں مالامال کر دے گی تمہاری خواہشات کی تکمیل تو کر دے گی من چاہی شہرت تمہارے دامن میں ڈال تو دے گی لیکن خوف کھاؤ اس دن سے جس دن سیدوں کے نانا جان کے سامنے تمہیں جواب دینا ہو گا ڈرو اس دن سے جس دن تمہیں خداۓ قہار و جبار کے سامنے جواب دینا ہوگا لیکن کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ میسر نہ ہو گا اسی لئے وقت رہتے ہوش کے ناخن لو اور بارگاہ رب العزت اور دربار رسالت میں صدق دل سے توبہ کرکے ایسی مکاری، عیاری و فریب کاری سے دست بردار ہونے کا عزم مصمم کرلو، اللہ رب العزت اپنے حبیب کے صدقے مغفرت کا پروانہ عطا کرے گا اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ ہمیں جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھے اور جو اس بلاء میں گرفتار ہیں انہیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے اور تمام مؤمنین کو سرخروئی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم




