نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ فَاَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ

ایک ایسا بھی مرشد

ایک ایسا بھی مرشد

آج کے زمانے میں پیروں کا جماوڑا ہے بعض جامع شرائط اور بعض مفقود من کل الشروط ہیں لوگوں میں کشمکش کا منظر کہ ہر مرید اپنے پیر کی بات کو حرف آخر ہی سمجھ رہا اگر چہ وہ بات اصول شرع یعنی قرآن وسنت اجماع وقیاس کے خلاف ہی کیوں نا ہو اب تو حال یہ ہوچلا کہ بعض مستورات بھی پیرانی اماں کے روپ میں عوام کو دھوکہ دینے,جیب بھرنے کی غرض سے میدان کارزار میں تشریف رکھتی ہیں نعوذ باللہ من ذالک ایسے میں کسی جامع شرائط پیر کا تعیین ہر کس وناکس کے بس میں نہیں مگر جو واقف شرع ہو, علماء سے انسیت سنی صحیح العقیدہ عالم دین کی صحبت کا غلبہ ہو ورنہ بعض لباس اسلامی کو زیب تن کرنے والے دام مکر وفریب میں پھنسے ہوئے ہیں ایسے میں ایک ایسے مرشد بھی تھے جو ,خوف خدا, متبع شرع, سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل عمل پیرا سادہ مزاج, شھرت سے شدید ناپسندیگی, ذکر الہی میں مستغرق,عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار, صحابۂ کرام سے سچی عقیدت, علمائے کرام سے محبت اولیاء اللہ سے ایسی الفت کی سالہا سال صرف ایک آستانے سے دوسرے آستانے پر زیارت میں گزارتے تھے دنیاوی چیزوں کو بلکہ اس کی بو سے سخت نفرت فرماتے تھے ہر وہ چیز جس میں دینی اسلامی مفاد ہو اس پر زور دیتے تھے, خلق خدا سے لوجہ اللہ بڑی محبت کرتے تھے, ان کو سنوارتے بھی سلیقہ بھی سکھاتے اسلامی لباس میں آنے اور مستمر رہنے کی دعوت فرماتے کسی کو پیار سے کسی کو ڈانٹ ڈپٹ کر شریعت مصطفی اور عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سکھاتے اعلی حضرت سرکار کی تعلیم پر عمل کرواتے آپکی زبان فیض ترجمان خزینہ درد تھی جس کو بھی شریعت سکھاتے اس کا اثر ایسا ہوتا کہ دوسری ملاقات میں الحمد للہ وہ سچا نبی کا غلام بن کر تشریف لاتا با این ہمہ جب بات مرید کرنے کی آتی تو جلد حلقۂ ارادت میں داخل نہ فرماتے بلکہ ایک راہ بتلاتے کہ مارہرہ شریف چلے جائیں بلگرام شریف جائیں وہاں سادات کرام ہیں ان کے دامن سے ہم بھی وابسطہ ہیں جب تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ باحیات تھے تو آپ فرماتے بریلی شریف چلے جائیں وہاں شہزادۂ اعلی حضرت ہیں ان کے دست کرم سے وابسطہ ہوں لیکن بعد تمام اصرار کے بہت سے وعدہ کے ساتھ داخل سلسلہ فرماکر قادری غلاموں میں ان کا نام لکھوادیتے اعلی حضرت عظیم البرکت سے ایسا عشق تھا کہ اگر کوئ گستاخ سامنے پڑ جاتا تو الامان چہرہ سرخ غضب کا ایسا عالم کہ مخالف بچ نکلنے میں ہی عافیت سمجھتا تصلب ایسا کہ مجھ راقم الحروف سے ایک نشست میں فرمانے لگے کہ مسلک کے معاملے میں کسی سے سمجھوتا مت کرنا مزید خاص کرتے ہوئے (چونکہ استاذ کا رتبہ ماں باپ کے بعد اعلی ہوتا یا اسلئے کہ میرے ساتھ بعض ایسے معاملات ہوچکے جس کو ملاحظہ فرمارہے تھے) فرمایا کہ مسلک کے معاملے میں استاذ سے بھی سمجھوتا مت کرنا آپ کے وہ الفاظ آج بھی ذہن میں منقش ہیں وہ ذات اسم بہ مسمی تھی جن کا نام پاک *مہبط انوار قادریت خلیفۂ حضور مفتی اعظم الشاہ صوفی لعل محمد* علیہ الرحمۃ والرضوان ہے ابھی یک سال قبل ماہ رمضان المبارک میں آپ نے پردہ فرمایا آپ کا اور کے پیر ومرشد ( *حکیم الامت حضرت علامہ مفتی الشاہ حنیف قادری بدر الہدی* علیہ الرحمۃ والرضوان ہے) کا آستانۂ مقدسہ چمن شاہ کٹھوری صفدر گنج قرب اودھ میں ہے بتاتا چلوں کہ آپ کا سلسلہ مارہرہ مقدسہ سے ہے نیز بہت سے سلسلۂ حقہ کی اجازت وخلافت آپ کو حاصل تھی بدر الہدی علیہ الرحمۃ کا زیادہ تذکرۃ تو حاصل نہ ہوسکا البتہ اتنا معلوم ہوسکا کہ جب بات عربی زبان میں مناظرہ کی آتی تھی تو سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ آپکا یا علامہ حشمت علی خاں علیہ الرحمۃ کا تعین فرماتے تھے سبحان اللہ آج کل ہمارا ذہن یہ بن چکا کہ متبع شریعت وجامع شرائط ذات کو ہم پیر ماننے کے لئے تیار نہیں المیہ یہ کہ پیر صرف وہ ہوگا جو کرامات دکھائے خرق عادت بات کا ظہور اسکی جانب سے ہو لیکن حق بات یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک پسندہ لائق تکریم ذات وہ ہے جو متقی ہو پرہیزگار ہو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے *ان اکرمکم عند اللہ اتقکم* لھذا جو شخص دین اسلام وشریعت مصطفی پر بطریقہ اکمل گامزن ہو اس بڑھ کر اور کیا کرامت ہوسکتی ہےالبتہ بہت سی کرامتوں کا ظہور بھی آپ سے بقید حیات اور بعد وصال فرمانے کے بھی جاری ہے جس راہ آپ جاتے سینکڑوں ہزاروں لوگ دامن سے وابسطہ ہونے ,نصیحت سے پر کلام سننے کے لئے زیارت رخ زیبا کے لئے اکٹھا ہوجاتے تھے ہر چہار جانب آپکے مریدین الحمد للہ موجود ہیں بریلی شریف ہو یا پیلی بھیت شریف بہار ہو یا بنگال سبھی جگہ آپکے مریدین موجود ہیں لیکن اکثر وبیشتر مریدین کو میں نے دیکھا کہ ان کو آپ علیہ الرحمۃ نے اپنے رنگ میں رنگ دیا ان میں اسلامی مسلکی تعلیم سے قلوب کو منور کردیا آپ کو زبان فارسی سے بڑا عشق تھا مثنوی شریف دیوان حافظ گلستاں بوستاں وغیرہ بعد فراغت کے پڑھا کرتے تھے بسا اوقات مجلسوں میں بھی ان اشعار کو سنا کر نصیحت فرماتے تھے آپکا آستانہ مرجع خلائق ہےآپکی سوانح پاک کا اجمالا بیان ہے جس کو بیان کرنے میں قاصر ورنہ آپکی ذات میری بیان کردہ باتوں سے لاکھوں درجہ افضل تھیاللہ رب العزت آپکا فیض ہم پر دراز فرمائے آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ✍️گدائے در مرشد ہشام الدین قادری حنیفی

Spread knowledge and gain great rewards

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top