راقم الحروف ۔محمد نورنواز ناشدجامعة الرضا، بریلی شریف
16/01/2026کل ۲۶ رجب المرجب بروز جمعرات جامعۃ الرضا کے وسیع و عریض احاطے کے اندر حامدی مسجد کے مقدس صحن میں بعد نماز مغرب موسم سازگار سماں پر کیف روشن فضاؤں کے بیچ ایک نور و نکہت علم و حکمت عشق ومحبت الفت و چاہت میں ڈوبی ہوئی محفل بنام جشن ختم بخاری شریف منعقد کی گئی جس کا آغاز بے نیاز اللہ وحدہ لاشریک کی مقدس و لا ریب کتاب “قرآن مجید برہان رشید” کی تلاوت پاک کے ذریعے سے ہوا اور حضور قائد ملت کی پر خلوص دعاؤں کے ساتھ تمامیت کو پہونچی اور اس عرصہ قصیر میں ہر ساعت ہر دقیق ہرہر لحظہ اپنے مخلص و مشفق معزز و مکرم و محترم سامعین و ناظرین و قارئین پر عشق و عرفان رحمت رحمٰن،علم و دانائی، فکر و آگاہی کے بیش قیمت ہیرے جواہرات لٹاتا رہی اور اپنے فیض نایاب سے فیض یاب کرتی رہی
اس محفل کے کے کچھ یاد گار پل جسے فقیر نے ماتھے کی نگاہوں سے دیکھے سنے اور اپنے کمتر ذہن و دماغ میں محفوظ کرسکا راقم الحروف ان حسین پر لطف لمحوں کو قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے
اولا تلاوت با سعادت کے بعد ثنا خوان و مداحین نے حمد نعت کے ذریعے سامعین و ناظرین کے قلوب و اذہان کو منور و مجلی کرتے ہوے نظر آۓ پھر اپنے سینے میں امت کا درد رکھنے والے اور دین متین کی تئیں ہر لحظہ فکر مند اور اس کی نشر و اشاعت تبلیغ و خدمت میں کوشاں رہنے والے ایک باوقار عالم نبیل فاضل جلیل حافظ و قاری حضرت مولانا مفتی غلام محمد صاحب قبلہ ( استاذ جامعۃ الرضا بریلی شریف) کی بے لوث نصیحت بالخصوص نو فارغین جامعۃ الرضا اور بالعموم دیگر تمام جامعات کے نو فارغین کے لئے ہوئی کہ قوم کو ایک اچھے رہبر کی کتنی ضرورت ہے اور کس انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے اور کس طرح لوگوں کے بیچ رہ کر ان کے مسائل کو حل کرنا ہے جس سے لوگوں کی رغبت دین و سنیت کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آۓ اور لوگ اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرتے ہوۓ نظر آئیں اور ہر طالب علم کو “خیر الجلیس الکتاب” کی طرف ذہن و فکر کو لے جاتے ہوۓ اور کتب بینی و ورق گردانے کے بیش قیمت فوائد کو ان کے گوش گزار کرتے ہوئے، کتابیں خریدنے اور اسے بالاستیعاب مطالعہ کرنے اور کتب بینی کے عادی بنے کی تاکید بھی کی ۔اللہ مفتی صاحب کو بہترین اجر عظیم و جنت جنت نعیم عطا فرمائے آمین
مگر ابھی بھی نظر عشاق تڑپ رہی تھی دل بے چینی و بے قراری کا شکار تھا زیارت کو آنکھیں ترس رہی تھیں قلب و جگر پریشان تھے پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ انتظار کی گھڑی ختم ہوئی اور وہ وقت آیا کہ دل بے قرار کو قرار پہونچایا جاۓ قلب مضطرب کے اضطراب کو دفع کیا جاۓ چشم منتظر کے انتظار کی ڈوری توڑدی جاۓ تب ان تمام حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لئے دو ذات با برکات یکے بعد دیگرے حامدی مسجد کے وسیع وعریض صحن مقدس میں جلوہ بار ہوۓ ۔اور محبین و معتقدین نے ان مقدس ہستیوں کی زیارت و دست بوسی سے اپنے آپ کو مستفیض و مستنیر کرنے لگے شیخ الادب مفتی شہزاد عالم صاحب قبلہ (استاذ جامعۃ الرضا بریلی شریف) نے نعرۂ تکبیر و رسالت کی حسن امتزاج صداؤں کے ساتھ سلطان وقت قاضی القضاه فی الہند قائد ملت شہزادۂ تاج الشریعہ حضور علامہ الشاہ مفتی محمد عسجد رضا خان قادری برکاتی بریلوی دامت فیوضھم اور ممتاز الفقہاء شہزادۂ حضور صدر الشریعہ امیر المومنین فی الحدیث حضور محدث کبیر شیخنا الکریم علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ القادری الامجدی حفظہ اللہ القوی کا استقبال فرمایا
پھر حضور محدث کبیر صاحب قبلہ نے حمد و صلاۃ کے بعد بخاری شریف میں موجود آخری حدیث کے ترجمۃ الباب من آیت القرآن سے درس کی ابتداء کی اور علم و حکمت کے بیش قیمت موتیوں کو بکھیرنا شروع کیے اور ایسی تشریح کی کہ لگ رہا تھا کہ علم کا ٹھاٹھیں مارتا پر جوش سمندر اپنے تمام تر موجوں کے ساتھ رواں دواں ہوفقیر نے اس علم و آگہی کے بحر رواں سے قطرہ دو قطرہ جو بھی حاصل کرسکا اسے آپ کی زینت نظر کر رہا ہے حضور محدث کبیر نے ترجمۃ الباب “و نضع الموازین القسط لیوم القیامۃ” کی تلاوت کی اور اس میں موجود لفظ موازین اور قسط پر بڑی لمبی چوڑی کافی و وافی شرح و بسط کے ے ساتھ بہت عمدہ تشریح فرمائی موازین پر بحث کرتے ہوۓ آپ نے اس لفظ کو جمع استعمال کرنے کی وجہ بیان فرماتے ہوۓ فرماتے ہیں کہ اس میں دو احتمال ہے پہلا یہ کہ اس جگہ میزان کی جمع موازین آیا کہ ہو سکتا ہے کہ بندے کے تمام افعال کو ناپنے کے لئے الگ الگ میزان ہو کیوں کہ بندوں کے مختلف اعمال ہوں گے کچھ افعال قلوب ہوں گے اور کچھ افعال جوارح جیسے کچھ دل سے کیے ہوں گے کچھ ہاتھ سے کئے ہوں گے اور کچھ زبان سے اور کچھ آنکھ سے المختصر بندے کے بہت سارے اعمال و افعال ہیں اور ان کے ہر عمل و فعل کو ناپنے کے لئے الگ الگ میزان ہیں اسی لئے یہاں جمع کا صیغہ آیا اور دوسری صورت یہ ہے کہ میزان تو ایک ہی ہوں گے اور اسی میں تمام اعمال و افعال ناپے جائیں گے تو سوال ہوتا ہے کہ پھر موازین جمع کیوں ہے تو اس شبہ کو دور فرماتے ہوۓ حضرت مرشدنا الکریم نے فرمایا کہ اگر چہ میزان ایک ہی ہے اور اسی کے ذریعے بندے کے متعدد اعمال و افعال کو متعدد بار ناپا جائے گا تو اسی متعدد بار بندے کے متعدد اعمال و افعال کو ناپنے کی وجہ سے یہاں پر جمع صیغہ آیا ہے اور حضرت نے “القسط” پر بحث فرماتے ہوۓ فرمایا کہ القسط ایک ایسا لفظ ہے جو دو متضاد معنوں کو اپنے اندر سمایا ہوا ہے اس کا ایک معنی ہوتا ہے “عدل” اور ایک معنی ہوتا ہے ظلم اور میزان کو اس لئے قائم کیا جاۓ گا تا کہ اللہ ربّ العزت منزہ عن العیوب اپنے عدل کا مظاہرہ فرماۓ تو پتہ چلا کہ یہاں لفظ “القسط” عدل کے معنی میں ہے جیساکہ قرآن مجید و برہان رشید میں ہے” وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتٰمی ” الی آخر الآیۃ تو سوال ہوتا ہے کہ اس کو کیسے متعین کیا جائے گا کہ کب عدل کے معنی میں ہے اور کب ظلم کے معنی میں ہے تو حضور نے اس شبہ کا بھی تبحر علمی سے بڑے پیار سے ازالہ فرماتے ہوۓ ارشاد فرمایا کہ القسط کو جب ثلاثی مزید فیہ کے باب افعال کا مأخذ مانے اور القسط بمعنی المقسط لیں تو اس وقت اس کا معنی عدل کے ہوگا اور جب ثلاثی مجرد سے القسط بمعنی القاسط ہو تو اس کا معنی ظلم کے ہوگا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے “و اما القاسطون فکانوا لجھنم حطبااسی طرح حدیث پاک “کلمتان حبیبتان الی الرحمٰن” میں حضور محدث کبیر نے الرحمن ہی لانے کی بے مثال وجہ ہم کم علم و کم فکر کے گوش گزار فرمائے آپ وجہ بیان فرماتے ہوۓ ارشاد فرماتے ہیں کہ الرحمٰن کی جگہ اللہ بھی لا سکتے تھے لیکن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے الرحمن فرمایا اس کی دو وجہ ہے پہلی یہ ہے کہ بندوں کو پتہ چل جاۓ کہ یہ دونوں کلمے محض اس کے پڑھنے کی وجہ سے محبوب نہیں ہے بلکہ رب کی رحمت کی وجہ سے محبوب ہیں کیوں کہ رب کی رحمت کے بغیر بندے کا کوئی عمل محبوب نہیں ہو سکتا اور یوں ہی کوئی بندہ محض اپنے عمل سے جنت میں نہیں جا سکتا ہے جب تک رب کی رحمت شامل نہ ہو جیسا کہ حدیث پاک میں ہے” لن یدخل احدا منکم عملہ الجنۃ ” اسی طرح بندے کا یہ دونوں کلمہ پڑھنا بھی رب کی رحمت سے ہی رب کو محبوب ہے دوسری وجہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رعایت سجع قافیہ بندی کی رعایت مقصود ہے کلمتان حبیبتان الی الرحمن میں پس لفظ اللہ اسم جلالت نہیں بلکہ الرحمن کا استعمال فرمایا اسی طرح بے شمار علم و حکمت کے گراں قدر جواہر بیش قیمت گہر پارے، فکر پارے اس وقت قلیل میں لٹاتے رہے اور ہم تشنگان علم و فضل کی تشنگی مسلسل بجھاتے رہے اور ان دونوں کلموں پر بحث کرتے ہوۓ اس کے متعلق بزرگان دین کا معمول اور ان کے اوراد وظائف بیان فرماۓ اور ان کلموں کے متعلق اپنا تجربہ بتاتے ہوۓ فرمایا کہ جو شخص طلوع فجر کے بعد اس کا ۱۰۰ سو بار ورد کرے گا اللہ رب العزت ا س سے مالی تنگی کو دور فرما کر اپنی نعمت سے نوازے گا اور اخیر میں دعا فرماتے ہوۓ درجہ فضیلت و تخصص کے معزز طلباء کرام کو حدیث پاک پڑھنے پڑھانے کی اجازت مرحمت فرمائی اور فقیر راقم السطور بھی ان میں کا ایک ادنی فرد فرید ہے ۔”الحمد للہ “اور اسی پر اپنے خطاب نایاب اور علم و حکمت فکر و آگہی سے لبریز گراں قدر گفتگو کا اختتام فرمایاپھر اس کے بعد حضور قائد ملت نے خود صلاۃ وسلام پڑھائی اور دعاؤں کے ساتھ اس نورانی و عرفانی مبارک محفل کا اختتام ہوا الحمدللہ اس محفل کا ہرہر لمحہ نصیحت آموز کلمات دین و مذہب کی اشاعت و تبلیغ کے لئے ترغیب و ترہیب سے پر تھا اور ہرہر لحظہ علم و فضل افزوں تھا جس کو تمام حاضرین محفل نے اپنے ذہن و فکر دل و دماغ میں رچانے بسانے کی حتی الوسع کوشش کرتے رہے اور اس کے شرف عظیم سے اپنے آپ کو مشرف کرتے رہے اور میں اللہ ربّ العزت کا بے پناہ شکر گزار ہوں کہ مجھ گنہگار کو بھی اس مبارک و مسعود محفل میں حاضری کی سعادتوں سے بہرور فرمایااور میں مبارک باد پیش کرتا ہوں درجہ فضیلت کے طلباء کرام کو جنہوں نے اس مبارک محفل کے انعقاد کرنے میں دامے درہمے قدمے سخنے حصہ لیا اور پایۂ تکمیل کو پہونچایا اور اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ انہیں نور علم اور دارین کی سعادتوں سے مالامال فرماۓ ۔ آمین ثم آمین ۔