تمر نے مناظرہ کی ایک جھلک

تمرن مناظرہ کی ایک جھلک______متکلم اہل سنت: محمد جسیم اکرم مرکزیمد مقابل متکلم: محمد فیضان رضا مرکزینائب متکلم: محمد عامر فضیل مرکزی 6 دسمبر 2024ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء کانفرنس ہال جامعۃ الرضا بریلی شریف میں تمرن مناظرہ کی محفل منعقد ہوئی جس میں مسئلۂ خاتم الانبیاء زیر بحث آیا تحزیر الناس کی متعین فی الکفر عبارات پر دو ڈھائی گھنٹے تک گفتگو ہوئی جس میں مد مقابل نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے خوب کوشش کی کہ بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نیا نبی آجائے تو خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا اور دلائل میں وہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ اور حضور مجدد الف ثانی کی وہ عبارت پیش کی جو جملہ شرطیہ پر مشتمل ہے جس میں تحقق شرط نہیں تو تحقق مشروط بھی نہیں کا افادہ ہے اور ان عبارتوں میں یہ نہیں ہے کہ تحقق شرط کے با وجود خاتمیت محمد کوئی فرق نہیں آئے گا البتہ قاسم نانوتوی کی عبارت میں یہ ضرور ہے کہ تحقق شرط کی صورت میں بھی خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا “کیونکہ اس نے کہا اگر بالفرض بعد زمانۂ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا” حالانکہ حقیقت یہ ہے اگر کوئی نبی پیدا ہو جائے تو خاتمیت محمدی میں ضرور فرق آئے گا مگر قاسم نانوتوی نے تحقق شرط کی صورت میں بھی خاتمیت محمدی میں فرق نہ آنے کی بات کی ہے جو صریح کفر ہے لیکن مد مقابل اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہوئے اور ایسی دلیلیں پیش کیں جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا محض مغالطہ میں ڈالنا مقصود تھا میں نے ان سے کہا کہ اگر دیابنہ کا یہی عقیدہ ہے کہ “دوسرا نبی آ بھی جائے تو خاتمیت محمدی میں فرق نہیں آئے گا” آپ لکھ کر دے دیجیے کیونکہ دو ڈھائی گھنٹے سے آپ اسی کو ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیے ہیں اس پر وہ بولے میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ فورا سامعین نے گواہی دی کہ نہیں مد مقابل دو ڈھائی گھنٹے سے اسی بات کو ثابت کر رہے تھے اب لکھ کر دینے میں انھیں دقت پیش آنے لگی اور خود اپنے درمیان بولنے لگے کہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہی نہیں ہے لیکن پھر بھی خواہی نخواہی لکھ کر انھیں دینا پڑا کیونکہ انھوں نے اسی کو ثابت کرنے میں سارا وقت صرف کیا “کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہو تو بھی خاتمیت محمدی میں کوئی فرق نہ آئے گا” میں نے اس عبارت کو لیکر المہند کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ المہند میں عقیدہ یہ لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے جو مانے وہ کافر ہے تو اس سے ثابت ہوا جس کے حوالے سے یہ اقرار نامہ دیا گیا وہ کافر ہوا المہند کی روشنی میں اس پر مد مقابل نے تاویل کی کہ نہیں اس میں “پیدا” کا لفظ موجود ہے جس کا معنی ظاہر ہونا بھی ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام ظاہر ہوں گے حضور کے بعد تو بھی خاتمیت محمدی فرق نہ آئے گا پھر آپ کیسے کفر بتا رہے ہیں یہ تو آپ بھی مانتے ہیں دوسری بات کہ پیدا ہونے کی تاویل ظاہر ہونے سے کی جا سکتی ہے تو پھر تکفیر کیوں؟ جب کہ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے تمہید ایمان میں لکھا کہ ننانوے وجوہ سے کفر ثابت ہوں صرف ایک وجہ سے اسلام ثابت ہو تو پہلوئے اسلام غالب رہے گا کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا اس پر جواب دیا گیا کہ الفاظ صریحہ میں تاویل کی گنجائش نہیں اور یہ بھی تمہید ایمان میں لکھا ہے کہ کوئی خود کو رسول کہے تو اس کی تکفیر کی جائے گی تاویل نہیں سنی جائے گی لیکن اس پر مولانا رفاقت صاحب نے کہا کوئی کہے کہ یہاں ظاہر ہی مراد ہے تو اس کی تکفیر کیسے کی جائے گی تاویل تو ماننی چاہیے کہ کفر کا مسئلہ ہے اب راقم الحروف نے ان سے کہا کہ اس عبارت میں نانوتوی نے “اگر” اور “بالفرض” لکھا ہے اگر عیسی علیہ السلام کا ظاہر ہونا اس کی مراد ہوتی تو اگر اور بالفرض نہ لکھتے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا آنا تو متیقن ہے تو اس میں تعلیق و فرض کی کیا ضرورت؟ تو ثابت ہوا نانوتوی نے یہاں پیدا سے تولد ہی مراد لیا ہے لہذا عبارت کا متعین فی الکفر ہونا ثابت ہو گیا اس پر مولانا رفاقت صاحب نے کہا “سبحان اللہ” “ماشاءاللہ” “جزاک اللہ” “یہ واقعی جواب ہے” اس تحریر میں تمرن مناظرے کی ایک جھلک ہے اللہ جل و علا تمام طلبا کے علم و عمل اور عمر میں خوب برکتیں عطا فرمائے اور عقائد میں پختگی عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

 

Author

Spread knowledge and gain great rewards

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top