عرس کی آڑ میں شکم پروری
از قلم محمد جسیم اکرم مرکزی
*رابطہ نمبر_9523788434*
ہے ریا کاروں کا چرچا، ہے ریا کاروں کی دھوم
بوریائے فقر بھی اب بے ریا ملتا نہیں
اللہ جل و علا کا یہ احسان عظیم ہے کہ امت محمدیہ کے سر پر "خیر امۃ" کا تاج زریں رکھا اور اس تاج کو "تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر" سے مزین و منقش فرمایا جو اس بات کی طرف مشیر ہے کہ ہر مسلمان کو مبلغ ہونا چاہئیے
اور "تؤمنون باللہ" سے اسے عزت و شوکت عظمت و رفعت عطا فرمائی تاکہ صاحب تاج کا پائے ثبات امر بالمعروف و النھی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے بجائے دنیا کے مال و منال دولت و زر کی وجہ سے قعر مذلت میں جا نہ گرے،
کیوں کہ جو صاحب تاج ہوتا ہے وہ قوم کا بادشاہ ہوتا ہے اور بادشاہ کبھی رعایا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا ہے کیونکہ یہ خلاف شان ہے۔۔۔۔۔۔ رعایا پر اس کا رعب و دبدبہ ہوتا ہے جو وہ حکم دیتا ہے رعایا اس پر عمل کرتی ہے
یہی شان مسلمانوں کی ہے خصوصاً علماء کرام کی کہ انھیں اللہ جل و علا نے منصبِ "اولی الامر" سے سرفراز فرمایا ہے اور ایمان والوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے
اور ان کی رفعت و عظمت کو "اوتوا العلم درجٰت" سے آشکار فرمایا یعنی اللہ جل و علا علماء کرام کو قوم کا حاکم بنایا اور قوم کو ان کی اطاعت کا حکم دیا،
لیکن افسوس صد افسوس آج قوم خود کو حاکم سمجھ رہی ہے اور وہ بعض حضرات جو خود کو عالم دین بلکہ علامہ کہلاتے نہیں تھکتے وہ "عوام کلأنعام" کی پیروی کرتے ہیں ،
حال ہی میں کتنے اعراس ہوئے جن کا پس منظر اور پیش منظر دیکھنے کے بعد آنکھیں حیران و ششدر رہ جاتی ہیں
میں اس وقت خاص طور پر *فرزندان پورنیہ* سے مخاطب ہو کر اُن باتوں کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے دل میں طوفان سا اٹھتا ہے اور کبھی طوفان کے ساتھ ساتھ بارش بھی برستی ہے جس کا اثر آنسوؤں کی شکل میں آنکھوں سے جاری ہوتا ہے اور اپنے اسلاف کی مزارات کی عزت و حرمت پامال ہوتے ہوئے دیکھ کر دل سے آواز آتی ہے
واعظ قوم کی پختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی
خصوصاً باز بیریا (صاحب مزار حضور سید شاہ عظمت اللہ علیہ الرحمہ) اور سنگھیا (صاحب مزار امام علم و فن خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ) کے عرس کے احوال کسی کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں جیسے سورج کی روشنی کسی کی آنکھ پوشیدہ نہیں،
فی الحال 28 نومبر 2022ء کو عرس امام علم و فن کا انعقاد ہوا بہت اچھی بات ہے کہ بزرگان دین سے فیضیاب ہونے کے لیے ان کے نام پر عرس اور محفل نور سجانی چاہئیے ،
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ادھر جلسے میں خطبا پر زوش ولولہ انگیز تقریر کرتے ہیں اور دوسری طرف رقص و سرور گانے بجانے کا بازار گرم رہتا ہے
ایک طرف شعرا بلبل کی طرح چہک چہک کر نعت و منقبت گنگناتے ہیں تو دوسری طرف نو جوان طبقہ اسی میدان میں اسی رات میں آلاتِ رقص و سرور میں ناچتے گاتے اور کار فحش میں ملوث نظر آتے ہیں
اب سوال یہ اٹھتا ہے کیا نو جوان طبقہ ان شیطانی آلاتِ رقص و سرور کو دیکھ کر جلسہ گاہ میں بیٹھیں گے ؟
اس پہ بھی یہ شکوہ ہے سامعین جلسہ گاہ میں نظر نہیں آتے ہیں صرف گھومتے رہتے ہیں آخر گھومنے کا سامان انھیں کس نے مہیا کیا؟
اس طرح کی شیطانی آلات کو دیکھ کر کیا نوجوان طبقہ خواہشات نفس کی تکمیل کے لیے ان کی طرف نہیں بڑھیں گے؟
کیا کوئی دانشمند کہہ سکتا ہے کہ اس جلسے کا مقصد اصلاح معاشرہ ہے؟
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس برائی کو فروغ کون دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کمیٹی والے اس کار فحش کو انجام دے رہے ہیں یا اس میں کسی اور کا ہاتھ ہے؟........
اگر بالفرض مان بھی لیا جائے اس سے کمیٹی والوں کا کوئی تعلق نہیں ہے تو انھوں نے اس بلائے عظیم کو روکا کیوں نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔ناچنے گانے بجانے کی کھلی چھوٹ کیوں دی؟
اب قارئین سوچتے ہوں گے گانے بجتے ہیں یہ بات تو واقع کے مطابق ہے لیکن ناچتا کون ہے ؟
تو میں اس کے جواب میں کہنا چاہوں گا کہ *بریک ڈانس* کسے کہتے ہیں ؟ ۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس کیوں رکھا؟۔۔۔۔۔۔۔کیا ڈانس کا معنی ناچ نہیں ہے؟۔۔۔۔۔۔بالکل ہے!۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا نام بریک ڈانس (آلۂ رقص) رکھا ہی اس لیے کہ اس میں آدمی کو بٹھا کر نچایا جاتا ہے،
اب قارئین بتائیں کہ اس بریک ڈانس میں کتنوں کی بہنوں کو بٹھا کر نچائی جاتی ہے؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنے بوڑھے ماں باپ کی عزتیں نچائی جاتی ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں ناچتی ہے اسی عرس کے نام پر آکر ناچتی ہے نا؟
کیا کمیٹی والے اپنی بہنوں کو (آلۂ رقص) بریک ڈانس میں نچاتے ہیں اگر نہیں تو پھر دوسروں کی بیٹیوں اور بہنوں کو نچانے کے لیے عرس کے نام پر میدان لہو و لعب کیوں سجاتے ہیں؟؟؟؟.....اگر ضمیر بیدار ہے تو ہزار بار سوچیے اور خود کو جھنجھوڑیے،
اور اگر خود کمیٹی والے عرس کی آڑ میں اس طرح کے میلے لگواتے ہیں تو کیوں لگواتے ہیں نیکی کمانے کے لیے یا شکم پروری کے لیے؟
رہی بات میلے لگوانے اور گانے بجوانے کی اس سے تو نیکیاں ہر گز نہیں مل سکتی ہے ہاں ایسے افعال قبیحہ شنیعہ کو انجام دینے والوں کے لیے آخرت میں دہکتی ہوئی آگ ہے جس کے لیے تیار رہیں،
جب یہ معلوم ہو گیا کہ یہ افعال قبیحہ نیکیاں کمانے کے لیے نہیں ہو سکتے ہیں تو دوسری بات ماننے پڑے گی کہ یہ شکم پروری کے لیے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو اب پوچھنا چاہوں گا کیا اس کے علاوہ کوئی دوسری راہ نہیں ہے جس سے شکم پروری ہو سکے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے اسلاف کو اذیت دے کر ہی کمانا ضروری تھا؟
لیکن کیا کیا جائے یہ حضرات بھی مجبور ہیں کیونکہ انھیں حرمت مزارات کو پامال کر کے پیٹ بھرنے کی عادت پڑ گئی ہے اور خود کو خادم مزار کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔۔۔۔۔انھیں خادم تو کجا آدمی کہتے ہوئے بھی آدمی شرما جائے۔۔۔۔
کیا حضور خواجہ مظفر حسین علیہ الرحمہ نے یہی درس دیا تھا حاشا للہ۔۔۔۔۔حاشا للہ۔۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔حضور امام علم و فن نے تو دولت و ثروت مال و منال کو ٹھوکر مار دیا اور اپنی زندگی دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ،
خود فرماتے ہیں
*"چنانچہ جس وقت میں بریلی شریف میں تدریسی خدمات پر مامور تھا اس وقت میری تنخواہ میری خرچ سے بہت کم تھی اس لیے میری اہلیہ پورنیہ سے روپے وغیرہ بھیج کر میری مدد کرتی تھی"* (تحقیقات امام علم و فن ص 13)
ایسے عالم میں بھی جب آپ کو بدایوں شریف میں آپ کے وزن کے مطابق چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تو آپ نے منع فرما دیا
آپ خود فرماتے ہیں
*"کہ وہاں (مدرسہ قادریہ بدایوں شریف میں) ایک ماروتی کار کے علاوہ میرے وزن بھر چاندی دینے کی پیشکش کی گئی تھی جسے میں یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا تھا کہ اتنی دولت اور کار لے کر میں کیا کروں گا؟ یہ پیشکش حضرت تاج الفحول کے صد سالہ جشن کے موقع پر 1998ء میں کی گئی تھی"* (تحقیقات امام علم و فن ص 11)
قارئین کرام چشم انصاف سے مذکورہ بالا دونوں اقتباس بغور مطالعہ کریں اور حضور امام علم و فن کی عاجزی و انکساری حلم و بردباری پر صدقے جائیں۔۔۔۔۔۔اور بتائیں کیا ایسی نفیس الطبع منکسر المزاج جبل العلم شخصیت کے عرس کی آڑ میں تماشے لگوانے والوں پر اللہ کی رحمتیں برسیں گی؟
علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور میں ایک حدیث شریف نقل فرماتے ہیں،
*"ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ؛ یعنی جو چیز میت کو گھر میں تکلیف دیتی ہے وہ اسے قبر میں بھی تکلیف دیتی ہے"* (شرح الصدور بشرح احوال الموتی و القبور ص 505 بحوالہ فردوس الاخبار 120/1 حدیث: 749)
قارئین کرام فیصلہ کریں کیا حضور امام علم و فن جب بقید حیات تھے تو ان افعال قبیحہ سے ان کو اذیت نہیں پہنچتی تھی؟۔۔۔۔۔۔پہچتی تھی۔۔۔۔بالکل پہنچتی تھی۔۔۔۔۔اس کی نظیر *ٹی وی کی تحقیق* پڑھ لیجیے جب ٹی وی کے عدم جواز پر آپ اس طرح متصلب فی الدین رہے تو ان آلات رقص و سرور کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہوتا؟ سوچیے اور خوب سوچیے
اگر حضور امام علم و فن دور حاضر کا یہ ناچ گانے بجانے والا منظر دیکھ لیتے تو وصیت فرماتے *مجھے یہاں دفن مت کرنا ورنہ مجھے اذیت پہنچے گی اور خدام نما لٹیرے شکم پروری میں لگے رہیں گے*
آج بھی وقت ہے توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں،
آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
کل مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا
یہ باتیں تو عوام اور کمیٹی والوں سے متعلق تھیں لیکن اس برائی میں وہ حضرات بھی برابر کے شریک ہیں جو اسی رات اسی میدان میں ممبر رسول پر بیٹھ کر تقریر تو کرتے ہیں لیکن ان آلاتِ رقص و سرور اور شکم پروری پر کچھ نہیں بولتے ہیں کیا یہ حضرات اس شعر کے مصداق نہیں ہیں،؟
در پیش ہیں دونوں کو سوال اپنے شکم کا
ایک اپنی خودی ایک خدا بیچ رہا ہے
کئی سالوں سے ان آلاتِ و رقص و سرور کا میلا لگتا ہے لیکن کس نے ابھی تک اس کے خلاف تقریر کی؟
کیا امر بالمعروف و النھی عن المنکر یہی ہے جو برائی سامنے ہے ( برائی بھی ایسی جس کا ارتکاب کرنا حرام ہے ) اس کو چھوڑ کر مستحبات پر تقریر کرتے رہیں کبھی بیگ سے پلیٹ نکال کر دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں پلیٹ چاٹ کر کھانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خطیب صاحب کی نظر میلے میں لگے ہوئے آسمان کو چھوتے ہوئے *الو چرخا* پر نہیں پڑی؟.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گانے بجانے کی آواز سماعتوں کی دہلیز سے نہیں ٹکرائی؟.........۔ بریک ڈانس کے تماشے نظر نہیں آئے؟۔۔۔۔۔۔خطیب صاحب اس پر کیوں نہیں بولے؟..... خاموش کیوں رہ گئے؟.........جب کہ یہ سب حرام ہے لیکن خطیب صاحب کو تو سوال اپنے شکم کا ہے پلیٹ چاٹنے کے آداب و فوائد بتا رہے ہیں اچھی بات ہے یہ باتیں بھی بتائیں لیکن آلات رقص و سرور پر بھی تو کچھ کلام کیجیے
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
میں ان بعض خطبا سے کہنا چاہوں گا جو ایسی روش کے مرتکب ہیں خدا را دامن حق تھام لیں اور حق بات کہیں خود دار بنیں اسی میں عزت و عافیت ہے رزق اللہ جل و علا دیتا ہے جتنا مقدر میں ہے وہ مل کر ہی رہے گا اب یہ آپ پر منحصر ہے آپ اس کو کس طرح حاصل کریں گے کسی کی چپقلشیں کر کے یا خلوص و للہیت کے ساتھ حق بات کہہ کر !
تقدیر میں جتنا اتنا ہی ملے گا نا
کیوں اتنا پریشاں ہے اے ساقی میخانہ
اگر سب مل کر چاہیں تو برائی کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک سکتے ہیں کوئی نہ کوئی لائحۂ عمل تیار کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔اگر یہی روش رہی اور گانے باجے کھیل تماشے آلات رقص و سرور کو دور نہ کیا گیا اور ممبر رسول سے اس کا رد نہ کیا گیا تو ہر گز ہر گز یہ امید نہ رکھیں کہ ہم پر حضور امام علم و فن کا فیضان برسے گا اور رحمتیں برکتیں نازل ہوں گی یہ تو نہیں ہو گا لیکن ہاں لعنتیں ضرور برسیں گی،
بیٹھا تھا لکھنے آج میں کچھ درد دل کی بات
پر آنسوؤں سے آنکھ میں پردہ سا چھا گیا
محسوس ہو رہا ہے ہر اک لفظ سے جسیم
خون جگر سے لکھی ہوئی داستان ہے
اللہ جل و علا ہمیں ان خرافات سے محفوظ و مامون رکھے اور صاحب تحریر کی ذات کو داغدار کرنے کے بجائے اپنے افعال قبیحہ شنیعہ کو ترک کرنے کی توفیق و رفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
✔ مضمون کاپی ہو گیا















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As