یاد علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنوی متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف رابطہ نمبر: 9523788434 ساحل گیا کہ دل کا نگینہ چلا گیا اک تیر چیر کر مرا سینہ چلا گیا ١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ صبح سویرے دل سوز خبر موصول ہوئی کہ سیاح وقت، رونق ممبر و محراب، عندلیب چمنستان رضا، زینت مسند فقہ و افتا، راہ سلوک کے پاسباں، فقیہ دوراں، ادیب و نکتہ داں، خطیب خوش بیاں، قسیم بادۂ عرفاں، عاشق شہ کون و مکاں، مطیع احکام یزداں، معتمد ازہری، منتخب واسطی، منظور نظر مارہروی، صاحب التصانیف الرائقہ والتحقیقات الفائقہ والتدقیقات الشائقہ خلیفۂ تاج الشریعہ و سید اویس مصطفی عامل نبیل ، فاضل، جلیل اتخذہ اللہ الخلیل علامہ فہامہ مفتی ڈاکٹر محمد ارشاد احمد رضوی المعروف بہ ساحل شہسرامی علیگ مصباحی قادری قدس اللہ سرہ و عمم برہ و تمم نورہ و اعظم اجرہ و اکرم نزلہ و انعم منزلہ لذت جام وصال سے شادکام ہو گئے، آنکھیں کھلیں، چھندھیائیں، اشکبار ہو گئیں زباں سے برجستہ نکلا انا للہ و انا الیہ رٰجعون اب دل کو قرار نہ جاں کو سکونغمگین دل ہے دیدۂ پرنم اداس ہے تم کیا گئے کہ محفل عالم اداس ہےدل کو قرار ہے نہ سکوں روح کو جسیمیہ کیا ہوا کہ زندگی یکدم اداس ہے دل تو ماننے کو تیار نہیں ہو رہا تھا لیکن پھر اللہ جل جلالہ کے قضاء و قدر کے آگے سر نیازمند جھکا دیا اور گویا ہوا کرم اپنا کرے تجھ پر لحد میںشہ کون و مکاں ارشاد ساحلمحرم کا مہینہ سترہ تاریخ چلے سوئے جناں ارشاد ساحل اخلاق کریمانہ________________ ٢٠١٤ء کو جب میں جامعہ قادریہ کنز الایمان اندھیری ممبئی میں مفتی صاحب کو دیکھا تو میں ان کے اخلاق کریمانہ اوصاف حمیدہ کا گرویدہ ہو کر رہ گیا ایسے اعلی اخلاق کے حامل شخص کو میں نے پہلی بار دیکھا تھا میں ان کی ذات ستودہ صفات سے اتنا متاثر ہوا کہ میرا دل کہتا تھا کہ کاش میں حضرت مفتی صاحب قبلہ سے مرید ہوجاتا اور ان کی خدمت میں رہتا لیکن کبھی میں دل کی بات زبان پر نہیں لا سکا پھر قسمت مجھے مرکز محبت بریلی شریف لے آئی اور میں نے اعلم العلماء الربانیین افضل الفضلاء الحقانیین بقیۃ السلف المصلحین حجۃ الخلف المفلحین تاج المحققین سراج المدققین اکمل الفقہاء المحدثین حضرت سیدنا سندنا مولانا ملجانا سرکار تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان ازہری قادری رضی اللہ عنہ و اجزل و اعظم قربہ منہ و اشرق علینا من نورہ التام و افاض علینا من بحرہ الطام و جعلنا من خدمہ فی دار السلام کے دست حق پرست پر بیعت کر لی لیکن مفتی صاحب قبلہ کی محبت میرے دل میں کم نہیں ہوئی مفتی صاحب کی عنایت مجھ فقیر پر اتنی رہی کہ جب میرے چہرے میں زخم ہو گیا جس سے مواد فاسد بہتا تھا تو اپنے ہاتھ سے اس پر دوا لگا دیتے تھے وہ زمانہ یاد آتا ہے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیںیاد آتی ہے تری کتنی بتائیں کیسے مہرباں مشفق من حامی ملت ساحل جلوہ فرمائیے پھر رونق و زینت ہو بحالسونی سونی سی لگے بزم فقاہت ساحل روداد جامعہ اشرفیہ ______ ایک ناخدا تھا جو کتنے ڈوبتوں کو ساحل سے لگا گیا ایک دریا تھا جو چلتے چلتے تھم گیا یا خود بخود ساحل سے مل گیا یہ وہ دریا تھا جس کا انتخاب طلباء اشرفیہ کو سیراب کرنے کے لیے فقیہ اعظم ہند شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی رضی اللہ عنہ نے کیا تھا خود ہی فرماتے ہیں: جب میں بعد تکمیل تحقیق و افتا شعبان المعظم کی تعطیل کے موقع سے گھر جا رہا تھا تو علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے مجھ سے فرمایا اپنا سامان رکھ کر جانا میں گھر چلا گیا جب واپس آیا تو بعض حضرات کی زبان سے میں نے سنا جو کہ رہے تھے اب آپ بھی یہیں پڑھائیں گے تو مجھے لگا یہ حضرات بطور طنز و مزاح کہہ رہے ہوں گے مجھے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا مجھے آنے کے لیے حضرت نے کہا میں آ گیا تھا لیکن دوسرے دن دیکھتا ہوں کہ اساتذہ کی فہرست میں میرا بھی نام اشرفیہ کے بورڈ میں چسپاں ہے اور میرے حق میں جو کتابیں تھیں ان کا بھی انتخاب ہو چکا تھا میں پڑھانے لگا ایک سیکشن میں شرح عقائد میں پڑھاتا تھا دوسرے سیکشن میں کوئی اور پڑھاتے تھے سیکشن دوم کے بعض طلبا نے مجھ سے درخواست کی کہ فلاں سبق سمجھ میں نہیں آ رہا ہے آپ آکے پڑھا دیں تو میں گیا اور پڑھا دیا جس سے طلبا بہت خوش ہوئے کیونکہ سبق سب کو سمجھ میں آگیا انہی طلبا میں ایک طالب علم تھا [جن کا نام راقم الحروف کو حضرت نے بتایا تھا لیکن اب یاد نہیں رہا] جو بعد فراغت جب بھی مجھ سے ملتا تو وہ مسکرا کر کہتا حضرت میں آپ کا شاگرد ہوں لیکن شرح عقائد کے اسی ایک سبق میں جو آپ نے ہم لوگوں کو بطور خاص پڑھایا تھا علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے انہی کے دم قدم سے میری بحالی ہوئی تھی لیکن کچھ حضرات کی نظر میں میں کھٹکتا رہتا تھا وہ سوچتے تھے اگر یہ یہاں رہا تو میری جگہ یہ لے لیں گے حالانکہ میرے دل میں ایسا کچھ نہیں تھا لیکن وہ میرے متعلق حضور شارح بخاری کے کان بھرتے رہتے تھے بالآخر میں خود ہی وہاں سے نکل گیا اور الہ آباد کی ایک مسجد میں امامت کا فریضہ انجام دینے لگا میری تلاش و جستجو کرتے ہوئے سید امین میاں قادری برکاتی دام ظلہ العالی الہ آباد تشریف لائے اور مجھے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی لے گئے ان کا کچھ علمی کام تھا جسے میں نے بخوبی انجام دیا وہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی راقم الحروف نے حضرت سے پوچھا کہ آپ کہیں مستقل طور پر رہ کر پڑھاتے کیوں نہیں ہیں آپ نے جوابا فرمایا مجھ پر سحر چلایا گیا ہے جو مجھے مستقل طور پر کہیں رہنے نہیں دیتا ہے میں نے کہا حضرت جامعۃ الرضا آ جائیں آپ نے فرمایا مجھے قائد ملت شہزادۂ تاج الشریعہ بہت دنوں سے کہہ رہے ہیں جامعۃ الرضا میں پڑھانے کے لیے لیکن مصروفیات کی وجہ سے وقت نہیں دے پا رہا ہوں ان شاءاللہ دو چار سال میں آؤں گا لیکن ملازمت کے طور پر نہیں بلکہ فی سبیل اللہ مہینے میں پندرہ بیس دن پڑھایا کروں گا حقیقت حال یہ کہ حضرت کو سبھی بڑے ادارے کے منتظمین اپنے یہاں دیکھنا چاہتے تھے لیکن ان کی زندگی منفرد درویشوں جیسی تھی جو ملتا اسی پر قناعت کر لیتے تھے انھوں نے خود اپنے لیے کبھی کوئی ساحل تلاش نہ کیا ساحل تخلص کی وجہ ______ آپ فرماتے ہیں میرے ایک ہمعصر تھے جو بہت ذہین و فطین ادیب ذی علم ماہر فن تھے جوانی کے عالم میں وہ اللہ کو پیارے ہو گئے جس کا صدمہ ارباب علم و ادب کو بہت ہوا ان کا نام ساحل تھا تو ان کی یاد تازہ رکھنے کے لیے میں نے اپنا تخلص ساحل رکھ لیا میں جب گھر گیا تو اپنے چاچا سے کہا کہ میں نے اپنا قلمی نام ساحل رکھ لیا ہے تو چاچا نے کہا تم کو کون پہنچانے گا ساحل نام سے میں نے کہا دھیرے دھیرے لوگ پہچاننے لگیں گے اور ایسا ہی ہوا کہ اب لوگ میرے نام سے زیادہ تخلص “ساحل” یعنی قلمی نام سے پہچانتے ہیں لیکن کس کو پتہ تھا آپ بھی جوانی کے عالم میں چلے جائیں گے غم ساحل پھر سے دھرایا جائے گا ارباب علم و ادب پھر سے زخم سے چور چور ہو جائیں گے اب کون ہے جو پھر سے ساحل بن کر دکھائے ہائے خدا خیر فرمائے کچھ یادیں کچھ باتیں_______ کچھ یادیں کچھ باتیں لوح دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں جو ہر موڑ پر ہر راہ پر دھڑکن بن کر دل میں دھڑکتی رہتی ہیں علامہ ساحل شہسرامی کی ذات ستودہ صفات کی یادیں بھی اسی وادی محبت کی نمایاں مثال ہے مجھے حضرت کی ذات ستودہ صفات سے ایسی محبت و انسیت تھی کہ میں ان کو اپنا خاص رہنما مانتا تھا ان سے اپنی زیست کی مشکل راہوں میں مدد لیتا تھا جو بھی دل میں علمی فنی اشکال ہوتا ان سے بلا جھجک بیان کر کے تشفی بخش جواب حاصل کرتا تھا جب وہ بریلی شریف سے واپس جاتے تو میری آنکھیں بھیگ جاتیں ایسا کبھی نہ ہوا کہ حضرت جامعۃ الرضا آ کے واپس گئے ہوں اور چشم محبت سے آنسو جاری نہ ہوئے ہوں ہائے وہ مربی و ہمدرد اب ہمیشہ کے لیے چلا گیا، کیا بتاؤں کہ دل پہ کیا گزری، آنسوؤں میں کیسی موجیں آئیں، لیکن یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتا ہوں تجھ پہ لازم تھا بجا آوری کرنا جاناں آ گیا جب کہ ترے پاس خدا کا ارشاد حضرت مفتی صاحب قبلہ سے بعض دفعہ گھنٹوں علمی گفتگو ہوتی خاص کر علم عقائد پر کبھی کبھی حضرت اپنی روداد بھی سناتے تھے ایک بار جامعۃ الرضا میں حضرت سمینار کے موقع پر تشریف لائے ہوئے تھے طلبا حضرت سے ملنے کے لیے جاتے تھے راقم الحروف بھی اپنی ادنی کاوش میر قطبی کا ترجمہ و تحشیہ بمطابق نصاب جامعۃ الرضا لے کر حاضر خدمت ہوا حضرت نے میری طرف اپنی توجہ مبذول فرمائی اور میرے ہاتھ سے مسودہ لے کر دیکھنے لگے کچھ نشاندہی فرمائی اور فرمایا کہ پہلے قطبی کا ترجمہ و تحشیہ کیجیے پھر میر قطبی کا کیجیے تاکہ طلبا کے لیے مزید آسانی ہو لیکن ہنوز یہ کام تشنۂ توجہ ہے اللہ جل جلالہ اسباب مہیا فرمائے آمین اس مجلس میں محمد ارشاد ثقافی مولانا ابوالکلام آزاد مرکزی اور بھی دیگر حضرات موجود تھے کہ حضرت علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی سر گزشت سنانے لگے۔ حکمت عملی اور وسعت مطالعہ ____________ آپ فرماتے ہیں : جب میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تھا تو ہفتہ وار نشست لگتی تھی طلبا مجھ سے سوالات کرتے تھے اور میں ان کے جوابات فراہم کرتا تھا نشست میں ہر طرح کے طلبا سوالات کرنے کے لیے شریک ہوتے تھے خواہ وہ دیوبندی ہو مودودی ہو نیچری ہو جو بھی ہو ایک طالب علم نے مجھ سے سوال کیا۔ آپ سر سید احمد کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ کیا وہ کافر و مرتد ہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ اس سوال کا جواب دینا میرے لیے اس وقت مشکل تھا کیونکہ اگر میں سیدھے یہ کہہ دیتا کہ ہاں ان کے عقائد ایسے ایسے ہیں اس لیے وہ کافر و مرتد ہیں تو مجھے وہاں سے نکال دیا جاتا اور مقدمہ بھی دائر ہو سکتا تھا لوگ کہتے یہیں رہ کر سر سید احمد کا خلاف بولتا ہے اور پھر نوجوان طبقہ کو میرے خلاف بھڑکایا جاتا تو میں نے اس وقت حکمت عملی سے کام لیا اور جواب میں نے ابو الاعلیٰ مودودی کی کتاب سے دیا جو پہلے سے میرے مطالعے میں تھی اور سوال کرنے والا بھی مودودی تھا میں نے ان سے کہا مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جو جنت ، دوزخ فرشتے کا انکار کرے وہ کافر و مرتد ہے اور سر سید احمد نے خود اپنی کتاب میں ایسی ایسی باتیں لکھی جس میں انھوں نے جنت دوزخ فرشتے کا انکار کیا ہے تو آپ اس سے نتیجہ خود اخذ کر لیجیے۔ اس جواب سے جہاں حضرت کی حکمت و دانائی کا پتہ چلتا ہے وہیں وسعت مطالعہ کا بھی پتہ چلتا ہے ہم سے تو اپنے مذہب کی کتابوں کا مطالعہ نہیں ہو پاتا ہے لیکن حضرت کا مطالعہ اتنا وسیع تھا ان کے ذہن و دماغ میں دوسرے مذاہب کی کتابیں بھی ازبر تھیں ایمان افروز حکایت___________ اسی مجلس میں حضرت علامہ ساحل شہسرامی صاحب نے ایک حکایت سنائی جس سے ایمان کو تازگی روح کو خوشنودی ملی اور مسلک اعلی حضرت کی حقانیت پر “لیطمئن قلبی” کی مہر ثبت ہو گئی آپ فرماتے ہیں : ایک دیوبندی تھا [جس کا حضرت نے نام اور گھر کا پتہ سب بتایا تھا لیکن راقم الحروف بھول گیا] جو کشف قبور کا عامل تھا وہ اس بات سے پریشان تھا کہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ بریلوی صحیح ہیں بعض کہتے ہیں کہ دیوبندی صحیح ہیں تو اس نے اس کے تصفیہ کے لیے کشف قبور کے عمل کا سہارا لیا اور اشرف علی تھانوی کی قبر پر چلا گیا وہاں جا کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہو گئے اس نے دیکھا کہ اشرف علی کا جسم آگ میں جھلسا پڑا ہے ہیئت بگڑی ہوئی ہے جس سے وہ حیران و ششدر رہ گیا پھر وہاں سے بریلی شریف آیا اور گنبد رضا کے نیچے بیٹھ کر کشف قبور کا عمل کیا قبر کے حالات اس پر منکشف ہوئے تو کیا دیکھا کہ خان صاحب تو بڑے ہی آرام سے سوئے ہوئے ہیں جیسے کوئی دولہا سو رہا ہو وہ اسی وقت دیوبندیت سے تائب ہو کر مسلک اعلی حضرت سے منسلک ہو گیا سبحان اللہ العظیم وبحمدہ مسلک اعلی حضرت سلامت رہے ایک پہچان دین نبی کے لیے مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے دور اندیشی__________ جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبی میں ایک بار مفتی صاحب نے اپنی دوا لانے کے لیے مجھے ممبئی کے کسی دواخانے پر بھیجنا چاہا میں اس وقت کم عمر تھا مجھے خود پر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ میں ممبئی کی کسی جگہ میں جاکر دوبارہ واپس آ سکوں بلکہ ایک بار میں ممبئی اندھیری کی کسی گلی میں گم بھی ہو گیا تھا بلکہ اور ایک بار ایسا ہوا کہ میں بوریولی اپنی بہن کے یہاں جا رہا تھا لیکن میں راستہ بھول گیا اور خود سے جا نہ سکا جب کہ میں کئی مرتبہ پہلے جا چکا تھا لیکن اس بار میرے اندر خود اعتمادی تھی مجھے اپنے اوپر پورا یقین تھا کہ میں جاکر دوا لے کر واپس آ جاؤں گا اور یہ اعتماد اپنے تجربے کی بنا پر نہیں تھا بلکہ بھیجنے والی شخصیت کی بنا پر تھا میرا دل کہہ رہا تھا مفتی صاحب بھیج رہے ہیں تو ان کی برکت سے میں جا کر بآسانی واپس آ سکتا ہوں اگر میں اس قابل نہ ہوتا تو مجھے مفتی صاحب ہر گز نہ بھیجتے لیکن اس کے ساتھ میرے پاس اور ایک عذر تھا کہ میرے پاس چپل نہیں تھی میں نے مفتی صاحب سے کہا مجھے مفتی صاحب نے ایک جوڑی چپل نکال کر دی اور روپے دیے میں چلا گیا بحمدہ تعالیٰ بذریعۂ بس منزل مقصود تک پہنچ گیا دوا لینے کے بعد واپس ہوا تو دواخانے کے باہر کچھ عطر فروش تھے میں نے اس سے شباب نام کا ایک عطر خریدا اور واپس مدرسہ پہنچا مفتی صاحب کی خدمت میں میں نے دوا پیش کی اور جو روپے بچ گئے تھے میں نے دینا چاہا تو آپ نے فرمایا تم رکھ لو میں نے کہا حضرت میں نے آپ کے روپے سے ایک عطر خرید لیا ہے تو پھر آپ نے مسکرا کر روپے اپنے پاس رکھ لیا، میرا جا کر واپس آنا میرے لیے بہت بڑی بات تھی لیکن میں حضرت کے حکم پر اعتماد کرتے ہوئے چلا بھی گیا اور بسلامت و عافیت واپس بھی آ گیا میں اسے حضرت کی کرامت تو نہیں کہتا ہوں جو بعید بھی نہیں ہے لیکن دور اندیشی ضرور کہتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اللہ تعالیٰ نے وہ ملکہ عطا فرمایا تھا کہ آپ مستقبل کی باتوں کو فراست ایمانی سے بھانپنے کی صلاحیت رکھتے تھے اصاغر نوازی__________ مفتی صاحب کا علمی قد جتنا اونچا تھا اس سے کہیں زیادہ آپ کا اخلاقی تعمیری قد اونچا تھا آج کے اس مصروفیت کے دور میں کسی کے پاس جائیں تو ان کا وقت نہیں ملتا ہے کہ ان سے کچھ پوچھ سکیں ان سے کسی کتاب میں تقریظ لکھوا سکیں ہمیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ ہاں واقعی علمی حضرات گوناگوں مصروفیات میں رہتے ہیں لیکن کیا ان کے پاس ہمارے لیے تھوڑا بھی وقت نہیں خیر لیکن مفتی صاحب کا منہج فکر جداگانہ دیکھا آپ کے پاس جب بھی کچھ لے کے گیا تو خندہ پیشانی سے ملے اور حوصلہ افزائی کی اور اگر بارگاہ میں کوئی عرضی پیش کی تو قبول فرمائی اتنی مصروفیات کے با وجود اپنے در سے محروم نہیں فرمایا ایک بار میں نے مفتی صاحب کو ایک کتاب بنام بوستان رئیس العلما جو ١٣٤ صفحات پر مشتمل تھی تصحیح کے لیے شام کو دی اور آپ نے تصحیح کر کے صبح مجھے واپس کر دی، میں خود بھی حیران رہ گیا کہ آپ کتنے جفا کش ہیں اس وقت آپ بائسی ہی میں قیام پذیر تھے علاوہ ازیں ایک کتاب بنام “قاش دل” جو ٤٥٠ صفحات پر مشتمل ہے تصحیح فرمائی اور اس پر جامع تقریظ بھی تحریر فرمائی جو اوروں کے در پر مہینوں بھٹکنے سے نہیں ہو پاتا تھا وہ مفتی صاحب کچھ دنوں میں کر دیتے تھے اس کا اندازہ اسی کو ہوگا جو اس راستے سے گزرا ہوگا حوصلہ افزائی________ اس دور میں حوصلہ شکن تو مل جاتے ہیں لیکن حوصلہ افزا بہت کم ملتے ہیں انھیں کمیاب شخصیات میں ایک ذات ستودہ صفات حضرت والا کی ہے جب بھی آپ سے بات ہوتی آپ فرماتے “آپ ہمارے مستقبل ہیں آپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں” یہ جملہ مجھے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے ابھارتا ہے میری حوصلہ افزائی کرتا ہے میں سوچتا ہوں مفتی صاحب کی وہ کونسی امید ہے جو مجھ سے وابستہ ہے؟ مجھے کیا کرنا چاہیے کہ مستقبل بہتر سے بہتر ہو سکے اور ان کی امید پر کھرا اتر سکوں سید امین میاں مارہروی کی نظر میں___________راقم الحروف سے امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی دام ظلہ نے بیان کیا کہ بیس سال پہلے میں نے حضور سید امین میاں مارہروی سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کہتے ہوئے سنا کہ علامہ ساحل شہسرامی کے بدن میں گوشت ہے ہی کہاں ہڈی ہے چمڑی ہے اور اس میں علم ہی علم ہےعلامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی کی نظر میں____امیر القلم علامہ ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی حفظہ اللہ القوی نے راقم الحروف سے بیان کیا کہ میں نے علامہ ساحل شہسرامی کے بچپنے کو دیکھا اور جوانی میں بھی میں نے ان کو تمام وقت متقی پرہیز گار تقوی شعار پایا، آپ ذی علم با صلاحیت فقیہ، مفتی، نظم و نثر نگار اردو، فارسی، عربی، انگلش چاروں زبان کے ماہر، علم الانساب کا عالم ہر فن مولی تھے بلکہ مختصر یہ کہ وہ درجۂ ولایت پر فائز تھے جتنے زمیں کے اوپر اتنے زمیں کے نیچے______ ہمارے ہمدرد مخلص و کریم حضرت مولانا محمد افضل مرکزی دام ظلہ العالی سے حضرت مفتی صاحب قبلہ کے متعلق گفتگو ہوئی تو دوران گفتگو آپ نے ایک بہت ہی اچھی دل چھو لینے والی بات کہی کہ لوگ تو کسی کو طنز کے طور پر کہتے ہیں کہ “فلاں جتنا زمیں کے اوپر ہے اتنا زمیں کے نیچے ہے” لیکن میں یہ مفتی صاحب قبلہ کی تعریف و توصیف میں کہتا ہوں کہ مفتی صاحب قبلہ”جتنے زمیں کے اوپر تھے اتنے ہی زمیں کے نیچے بھی تھے” یعنی آپ جس طرح زمین کے اوپر والوں سے گفتگو کرتے تھے ایسے ہی آپ زمین کے نیچے آرام فرمانے والے بزرگان دین سے بھی ہمکلام ہوتے تھے کسی مزار شریف میں حاضری دینے کا انداز ایسا جداگانہ تھا کہ لگتا آپ صاحب مزار سے گفتگو کر رہے ہیں آپ کے اندر ایسی روحانیت تھی موصوف مزید بیان کرتے ہیں کہ میں ایک بار بہت پریشان تھا حضرت نے مجھے دلاسا دیا سمجھایا کچھ اپنی بھی آپ بیتی سنائی جس کی وجہ سے میری جان میں جان آئی تسکین قلب حاصل ہوئی آج بھی وہ باتیں یاد آتی ہیں تو دل کو تسلی ملتی ہے زندگی بس یہی تو ہے افضل یاد ماضی خیال مستقبل آخری آرام گاہ_________ باتیں تو بہت ہیں کیا لکھوں کیا چھوڑوں اب کسے درد غم سناؤں اب کسے حالات دل بتاؤں مرا غمگسار غمخوار ہمدرد مربی و مخلص مہربان و مشفق تہ مزار چلا گیا اب یادیں ہی یادیں ہیں جن سے دل میں ہلچل مچی رہتی ہے، اب وہ باتیں ہی باتیں ہیں جو کانوں میں گونج رہی ہیں لیکن وہ چہرہ سامنے کہاں سے لاؤں ترا چہرہ کوئی تو سامنے لائےقتیل جان جاں ارشاد ساحلکرم اپنا کرے تجھ پر لحد میںشہ کون و مکاں ارشاد ساحلکیا ہے دفن ہم نے آج ہائے زمیں میں آسماں ارشاد ساحل١٧ محرم الحرام ١٤٤٦ھ بمطابق ٢٤ جولائی ٢٠٢٤ء بروز بدھ بوقت شام آپ کی تکفین و تدفین کی گئی اللہ جل جلالہ مربی کریم مفتی صاحب قبلہ کو غریق رحمت فرمائے آمین ہمارا بھی خاتمہ بالخیر فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم





GHULAM SAMDANI