
یادگار ساحل بقلم ساحل[حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین]از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنویتخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریفرابطہ نمبر: 9523788434 ٢٠١٤ء میں راقم الحروف جامعہ قادریہ کنز الایمان ممبئی اندھیری [بانی ادارہ خلیفۂ تاج الشریعہ ناصر ملت حضرت مولانا غلام ناصر دام ظلہ العالی]
میں دورۂ حفظ میں زیر تعلیم تھا دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی [بانی ادارہ خلیفۂ مفتی اعظم ہند حضور سراج ملت علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ] میں تقریری و تحریری مقابلہ کا پروگرام رکھا گیا تھا جس پرگرام میں برائے تقریر حقیر فقیر جسیم اکرم مرکزی غفر لہ المولی القدیر نے بھی حصہ لیا خلیفۂ تاج الشریعہ صاحب تصانیف کثیرہ ادیب شہیر فقیہ عصر خلیق و شفیق حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر ارشاد احمد رضوی مصباحی علیگ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی نے تقریر لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی جس کا عنوان ہے “حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین” اس تقریر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کس درجہ محبت ہونی چاہیے اس کو اجاگر کیا گیا ہے اور اسی کی روشنی میں خلیفۂ و تلمیذ اعلی حضرت حضور ملک العلما علامہ مفتی الشاہ سید ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ الباری کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کیسی محبت و انسیت تھی اور آپ کے اندر کس درجہ تصلب فی الدین تھا دلائل و براہین سے مزین اچھے پیرائے میں پرو کر ثابت کیا گیا ہے یہ تقریر دور حاضر کے خانقاہی غیر خانقاہی تمامی حضرات کے لیے مشعل راہ ہے خصوصاً وہ حضرات جو سب فرقے کے لوگوں کو صحیح بتاتے ہیں اور خود کے صلح کلی ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور گستاخان نبی و صحابہ کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ان کے لیے سامان عبرت ہے مکمل تقریر قارئین کرام کے باصر نواز کرتا ہوں تاکہ پڑھ کر راقم الحروف کو دعاؤں سے نوازیں اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے لیے بلندی درجات کی دعا فرمائیں تقریر ________ “حضور ملک العلما اور تصلب فی الدین” نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح} لَّا تَجِدُ قَوۡمࣰا یُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡیَوۡمِ ٱلۡـَٔاخِرِ یُوَاۤدُّونَ مَنۡ حَاۤدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوۤا۟ ءَابَاۤءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَاۤءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَ ٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِیرَتَهُمۡۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ كَتَبَ فِی قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِیمَـٰنَ وَأَیَّدَهُم بِرُوحࣲ مِّنۡهُۖ {سورة المجادلة} حضرات محترم مدینے کے آقا ہم سب کے داتا حضور پُرنور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ گوہر بار میں جھوم جھوم کر درد و سلام کی ڈالیاں نچاور کریں اور پڑھیں بآواز بلند اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد معدن الجود و الکرم و آلہ الکرام و ابنہ الکریم و آلہ و بارک و سلم حضرات محترم میں نے ابھی ابھی آپ کے سامنے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس کا ترجمہ اعلی حضرت کنز الکرامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ یوں قلم بند کرتے ہیں محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔ تم نہ پاؤگے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سےجنھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگر چہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اسی لیے تو ڈاکٹر اقبال ارشاد فرماتے ہیں کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں حضور سرور کائنات فخر موجودات سید المرسلین خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس سے والہانہ عشق کا تقاضا ہے کہ اللہ و رسول کے دشمنوں سے عداوت اور دوری رکھی جائے یہ عمل اللہ کی بارگاہ میں بے حد مقبول ہے۔ حدیث پاک میں ہے “احب الاعمال الی اللہ الحب فی اللہ و البغض فی اللہ” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے کے لیے اللہ کے محبوبوں سے سے محبت کرے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے دشمنوں سے نفرت کرے اسی لیے تو سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ پکار اٹھتے ہیںدشمن احمد پہ شدت کیجیے ملحدوں کی کیا مروت کیجیے شرک ٹھہرے جس میں تعظیم حبیباس برے مذہب پہ لعنت کیجیےغیظ میں جل جائے بے دینوں کے دلیا رسول اللہ کی کثرت کیجیے حضرات گرامی سورۂ فتح کی میں نے جس آیت کریمہ کی تلاوت کا شرف حاصل کیا ہے اس میں اللہ رب العزت عاشقان رسول حضرات صحابۂ کرام کی مدح فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ {سورة الفتح} اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے دشمنوں پر شدت اور اللہ کے دوستوں اور مسلمانوں پر رحمت اللہ کو اس قدر محبوب ہے کہ خود قرآن میں اس کی مدحت میں آیت کریمہ اتارتا ہے اسے اپنی پسندیدگی کی نشانی قرار دیتا ہے اسے اپنی محبت کی علامت فرماتا ہے جبھی ڈاکٹر اقبال بندۂ مومن کی پہچان یہ بتاتے ہیں ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن دوسری آیت کریمہ میں حضرات صحابہ خاص طور سے حضور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ارشاد فرماتا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ و رسول سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان بارگاہوں کی دشمنوں اور گستاخوں سے یاری نہیں کر سکتے دوستی نہیں کر سکتے انھیں اپنا نہیں سمجھ سکتے ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں قائم کر سکتے اگر چہ وہ دنیاوی رشتے میں کچھ بھی لگتے ہوں چاہے وہ بھائی ہوں یا باپ چچا ہوں یا دادا، دادیہالی رشتہ دار ہوں یا نانیہالی یا بیوی کے گھر والے ہوں یا شوہر کے اگر وہ اللہ و رسول سے کٹ گئے تو پھر ان سے کوئی رشتہ نہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصلب فی الدین اللہ تعالی کو کس قدر محبوب اور مطلوب ہے اسی لیے سرکار مفتی اعظم کے پیر و مرشد سرکار نور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ فرماتے ہیں “اپنے سچے دین پر اتنے سخت اور مضبوط ہوں کہ دوسرے متعصب جانیں، اس لیے کہ دین حق میں مضبوطی پسندیدہ بات ہے اور دین باطل پر مضبوطی حماقت اور بری چیز ہے” اب آئیے دیکھتے ہیں کہ حضور ملک العلما فاضل بہار سید شاہ محمد ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ میں اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تصلب فی الدین کس درجہ موجود تھا حضور سرکار ملک العلما فاضل بہار سید شاہ ظفر الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ جو بہار کی نامور سر زمین میں پیدا ہوئے ١٠ محرم الحرام ١٣٠٣ھ میں ایک دیندار سید گھرانے میں آپ کی آنکھ کھلی اور مختلف مدارس سے ہوتے ہوئے سرکار اعلی حضرت امام عشق و محبت کنز الکرامت جبل الاستقامت عاشق ماہ رسالت مجدد دین و ملت الشاہ احمد رضا خان قادری رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں کیا پہنچے کہ ذرہ سے آفتاب بن گئے قطرہ سے دریا بن گئے ظفر الدین سے ملک العلما بن گئے وہی اعلی حضرت جن کے بارے میں انھیں کے نیاز مند فاتح یورپ و ایشیا حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تمہاری شان میں جو کچھ کہوں اس سے سوا تم ہو قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو ملک العلما اسی مجدد وقت اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے فیض یافتہ تھے جن کا تصلب فی الدین پوری دنیائے سنیت میں مشہور ہے انھیں کا فرمان عالی شان ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رب العزت جل جلالہ کے نور ہیں حضور سے صحابہ روشن ہوئے ان سے تابعین روشن ہوئے تابعین سے تبع تابعین روشن ہوئے ان سے ائمۂ مجتہدین روشن ہوئے ان سے ہم روشن ہوئے اب ہم تم سے کہتے ہیں یہ نور ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ تم ہم سے روشن ہو، وہ نور یہ ہے کہ اللہ و رسول کی سچی محبت ان کی تعظیم اور ان کے دوستوں کی خدمت اور ان کی تکریم اور ان کے دشمنوں سے سچی عداوت جس سے خدا اور رسول کی شان میں ادنی بھی توہین پاؤ پھر وہ تمہارا کیسا ہی پیارا کیوں نہ ہو فورا اس سے جدا ہو جاؤ جس کو بارگاہ رسالت میں ذرا بھی گستاخ دیکھو پھر وہ تمہارا کیسا ہی بزرگ معظم کیوں نہ ہو اپنے اندر سے اسے دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دو تو بھلا حضرت ملک العلما کا تصلب فی الدین کیسا ہوگا اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حضرت ملک العلما پوری زندگی تصلب فی الدین کی فکری اور عملی تصویر تھے آپ نے ہمیشہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ انجام دیا وہابیوں غیر مقلدوں سے مناظرے کیے خود آپ کے مربی استاد و مرشد اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو کئی جگہ مناظرے کے لیے بھیجا آپ نے طالب علمی کے زمانے میں بریلی شریف میں اپنے ہم درس سید عبد الرشید عظیم آبادی کے ساتھ جا کر اشرف علی تھانوی سے بحث و مناظرہ کیا اور اسے لاجواب کر دیا آپ نے اپنے فتاوی میں دیوبندیوں، شیعوں، غیر مقلدوں، وہابیوں سب کا رد کیا اور اہل سنت کا پرچم ہمیشہ بلند رکھا آپ نے بائیس سال کی عمر میں میوات میں ١٣٢٦ھ میں وہابیوں دیوبندیوں سے مناظرہ کیا اور فاتح رہے اس کی روداد اپنی کتاب “شکست سفاہت” میں بیان فرمائی اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے راندیر مناظرہ کے لیے بھیجا جہاں آپ نے وہابیوں دیوبندیوں کو خاموش کر دیا ١٩٢٥ء میں پٹنہ ضلع لوگرا میں غیر مقلدوں وہابیوں سے مناظرہ کیا وہابی مناظر آپ کے سامنے نہیں آیا اور وہابیوں کی ذلت آمیز شکست ہوئی جس کو دیکھ کر سامعین میں سے دو سو سے زیادہ غیر مقلد آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوئے آپ کی نو کتابیں بد مذہبوں سے رد و مناظرہ کے موضوع پر ہیں پٹنہ میں ایک مرتبہ چاند کے مسئلے پر وہابیوں نے طوفان اٹھا رکھا تھا آپ نے اپنی کتاب “عید کا چاند” میں مولانا شاہ فرید الحق عمادی کو جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا امسال وہابیوں اور امارتیوں نے محض ریڈیو اور فون پر روضہ توڑا اور دوسروں کا روضہ توڑوایا اس لیے ارادہ ہے کہ مشاہیر علما سے فتاوی حاصل کر کے ایک کمیٹی بنا دی جائے کہ اس کے اعلان کے بغیر لوگ عید میں کسی کی بات نہ سنیں اور کمیٹی کا اصول و دستور حسب فتاوی علما ہوگا غرض اعلی حضرت کے شیر ہمارے سرکار ملک العلما زندگی بھر تصلب فی الدین کی تصویر تھے بد مذہبوں کا تعاقب کرنا اور ان سے دور و نفور رہنا ان کا شیوہ رہا اسی لیے اعلی حضرت رضی اللہ عنہ آپ کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں میرے ظفر کو اپنی ظفر دے اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں [علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کی لکھی ہوئی تقریر مکمل ہوئی] متذکرہ بالا تقریر علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ نے لکھ کر راقم الحروف کو عنایت فرمائی میں نے اسے زبانی یاد کی اور مقررہ تاریخ میں دار العلوم مفتی اعظم پھول گلی ممبئی پہنچا میرا نام لیا گیا میں نے تقریر کی اور وہیں بیٹھا رہا کچھ دیر کے بعد علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ تشریف لائے سب کھڑے ہو گئے میں اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور دل ہی دل میں سوچا کہ علامہ ساحل شہسرامی کی تعظیم کے لیے اتنے بڑے بڑے علما جو عمر میں بھی بہت بڑے ہیں کھڑے ہو گئے پھر جب رات ہوئی تو جلسے میں نقیب صاحب ممبر رسول میں بیٹھے ہوئے علما کا تعارف پیش کر رہے تھے جب علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کا نام لیا تو اخیر میں بولا یہ کیا کیا ہیں میں آپ حضرات کو کیا بتاؤں یعنی بہت کچھ ہیں جس کی وجہ سے میرے دل میں ان کی محبت اور راسخ ہو گئی اور ان کا علمی قد دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی اختتام جلسہ پر تمام شرکاء مقابلہ کو حضور سراج ملت خلیفۂ تاجدار اہل سنت مفتی اعظم ہند علامہ سید سراج اظہر قدس سرہ نے انعامات تقسیم کیے انھیں انعامات میں مجھے ایک کتاب “خطرہ کی گھنٹی” ملی جو طاہر القادری کی تردید میں لکھی گئی ہے تبھی سے میں واصف عیسائی و یہودی طاہر القادری کے باطل عقائد و نظریات سے واقف ہوں غرض یہ کہ علامہ ساحل شہسرامی قدس سرہ السامی کی رہنمائی راقم الحروف کو ہر موڑ پر حاصل رہی جس کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا آج ان کے جیسا ایک مخلص مربی کی تلاش راقم الحروف کو ہے اللہ کرے کہ جلد ملائے اور حضرت علامہ ساحل شہسرامی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم