سفینۂ بخشش اور مسلک اہل سنت کی ترجمانی
الله الله اللهُ مَالِي رَبِّ إِلَّا هُوَ m1
يَفْنَى الْكُلُّ وَيَبْقَى هُوَ لَيْسَ الْبَاقِي إِلَّا هُوَ m2
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪
صدق اللہ العظیم
تلاطم ہے یہ کیسا آنسوؤں کا دیدۂ تر میںm1
یہ کیسی موجیں آئی ہیں تمنا کے سمندر میں m2
تجسس کروٹیں کیوں لے رہا ہے قلب مضطر میں m1
مدینہ سامنے ہے بس ابھی پہنچا میں دم بھر میں m2
محبت سے عقیدت سے بلند آواز سے مل کر m1
درود پاک پڑھیے بارگاہ لعل و گوہر میں m2
اللہ رب محمد صلی اللہ علیہ و سلما m1
نحن عباد محمد صلی علیہ و سلما m2
نقوش فکر رضا خاں سفینۂ بخششm1
ضیائے مشعل ایماں سفینۂ بخششm2
ہیں جس میں اہل سنن کے عقائد و افکارm1
وہ ہے کتاب درخشاں سفینۂ بخشش m2
اللہ جل و علا کا ارشاد ہے
اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقوں میں نہ بٹ جاؤ
یاد رہے کہ صحابہ کا راستہ تابعین تبع تابعین کا راستہ اصل راستہ طریقۂ مذہب ِاہل سنت و جماعت ہے، یہی وہ رسی ہے جسے پکڑنے کا حکم اللہ جل جلالہ نے دیا ہے اس کے سوا کوئی راہ اختیار کرنا دین میں تفریق ڈالنا ہے راہ راست سے بھٹک جانا ہے ۔
اسی لیے صاحب سفینۂ بخشش میں حضور تاج الشریعہ نے فرمایا
طوق تہذیب فرنگی توڑ ڈالو مومنو! m1
تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیںm2
جو پیا کو بھائے اختر وہ سہانا راگ ہےm1
جس سے نا خوش ہوں پیا وہ راگنی اچھی نہیںm2
ارباب علم و دانش سے مخفی نہیں ہے کہ یزید پلیدنے مدینہ طیبہ پرلشکر بھیجا،جس کی وجہ سے تین دن مسجدِنبوی میں نماز نہ ہوئی۔اور گھوڑوں کی لید اور پیشاب بھی منبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے۔(استغفراللہ العظیم)۔ آج اسی کے مطیع و حامی نا جائز اولاد نجدیوں نے مکمل پروٹوکول کے ساتھ دس دس فور ویلر کی ریلی گنبد خضری کے قریب لے جا کر اپنی بد بختی شقاوت قلبی دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
ارے او نادان نجدیو ہوش میں آؤ یہ وہ بارگاہ ہے جس کی حرمت و کرامت کو اللہ یوں بیان فرماتا ہے
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوا۟ لَا تَرۡفَعُوۤا۟ أَصۡوَ ٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِیِّ وَلَا تَجۡهَرُوا۟ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ أَن تَحۡبَطَ أَعۡمَـٰلُكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تَشۡعُرُونَ
اسی کی نقشہ کشی حضور تاج الشریعہ یوں کرتے ہیں
ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک ترm1
یہاں آتے ہیں یوں عرشی کہ آوازہ نہیں پر کاm2
یہ دربار نبی ہے جس کے آگےm1
نہ جانے عرش اعظم کب سے خم ہےm2
یہاں قابو میں رکھیے دل کو اخترm1
یہ دربار شہنشاہ امم ہے m2
یہ وہ بارگاہ ہے جہاں اہل دل دل کی دھڑکن بھی روک لیتے ہیں سانس بھی آہستہ لیتے ہیں
لیکن ان بد بخت نجدیوں کے ذہن و دماغ میں شیطان کی حکومت چل رہی ہے
تاج الشریعہ فرماتے ہیں:
دفع ہو طیبہ سے یہ نجدی بلاm1
یا رسول اللہ ﷺ عجلت کیجئےm2
یہ وہی اندھے نجدی ہیں جنھوں نے رحمۃ للعالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ اجمعین کو اپنا بڑا بھائی کہا اسی کی تردید اور اہل سنت کی ترجمانی کرتے ہوئے حضور تاج الشریعہ فرماتے ہیں
وہی جو رحمۃ للعالمیں ہیں جانِ عالم ہیںm1
بڑا بھائی کہے ان کو کوئی اندھا بصیرت کاm2
سجدہ بے الفت سرکار عبث ہے نجدیm1
مہر لعنت ہیں یہ سب داغ جبیں سائی کےm2
وه رگ جان دو عالم ہیں بڑے بھائی نہیںm1
ہیں یہ سب پھندے بُرے تیرے بڑے بھائی کےm2
جو جنونِ خلد میں کوؤں کو دے بیٹھے دھرمm1
ایسے اندھے شیخ جی کی پیروی اچھی نہیںm2
عقل چوپایوں کو دے بیٹھے حکیم تھانویm1
میں نہ کہتا تھا کہ صحبت دیو کی اچھی نہیںm2
یہ وہی نجدی ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا نہ مانگو کہ یہ شرک ہے ایسے جاہل کامل کے رخسار بد شعار پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے اہل سنت کی یوں ترجمانی کرتے ہیں
ابْتَغُوا فرما کے گو یا رب نے یہ فرما دیاm1
بے وسیلہ نجدیو! ہر گز خدا ملتا نہیںm2
بلکہ سرکار کی ایڑیوں کے بارے میں فرمایا
دافع هر کرب و آفت ہیں وہ یاور ایڑیاںm1
بنده عاصی پہ ہیں رحمت بنده پرور ایڑیاںm2
ذکر سرکار کرتے ہیں مومن m1
کوئی مر جائے جل کے کینے سےm2
بارگاہ خدا میں کیا پہنچے m1
گر گیا جو نبی کے زینے سےm2
اسی لیے تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر تم عشق نبی دل میں بسانا چاہتے ہو اطاعت خدا میں سر بخم رہنا چاہتے ہو جنت کی بھینی بھینی ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہو اور مسلک اہل سنت و جماعت پر ثابت قدم رہنا چاہتے ہو تو صدائے دل نواز سنو
شانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور علمِ دین کی اہمیت
تمہید
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو عبادت، اخلاق، علم اور معاشرت ہر میدان میں رہنمائی عطا کرتا ہے۔ "إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ" یہی وہ پیغام ہے جس نے دنیا کے اندھیروں کو نور میں بدل دیا۔ آج بھی اگر مسلمان سچی نیت سے قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھام لیں تو عزت و کامیابی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔
قرآن کریم
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
حدیث شریف
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ" یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے علم کی شمع روشن کی۔
علمِ دین کی فضیلت
جو شخص علمِ دین حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔ "يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ" اس آیتِ کریمہ میں اہلِ ایمان اور اہلِ علم کے بلند درجات کی طرف اشارہ موجود ہے۔ علماء امت ہر دور میں دین کی حفاظت کا ذریعہ رہے ہیں۔
اعتراض
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف دنیاوی تعلیم ہی کافی ہے، مگر یہ بات درست نہیں۔ دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علم بھی ضروری ہے کیونکہ یہی انسان کو صحیح اور غلط میں فرق سکھاتا ہے۔ "وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" اس دعا میں مزید علم کی طلب کی تعلیم دی گئی ہے۔
فرمان مصطفی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی تعلیم دینا اور سیکھنا عظیم عبادت ہے۔
نوجوانوں کی ذمہ داری
آج کے نوجوان اگر اپنا وقت فضول چیزوں میں ضائع کرنے کے بجائے علم، عبادت اور اخلاق پر صرف کریں تو پوری امت کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ "إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، اس لئے مایوسی اختیار نہیں کرنی چاہئے۔
اسلامی معاشرہ
ایک اچھا اسلامی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں والدین کا احترام، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت ہو۔ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا"۔ یہ تعلیم معاشرے میں محبت پیدا کرتی ہے۔
M1 علم کی روشنی سے دل جگمگا گیا M2 ذکرِ نبی سے روح کو چین آ گیا
M1 قرآن کی تلاوت میں سکون ایسا ملا M2 جیسے خزاں میں باغ کو موسمِ بہار ملا
M1 مدینے کی گلیوں کا تصور جب آیا M2 غم کا ہر اک بادل فوراً بکھر سا گیا
حدیث مبارک
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ" یعنی دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ انسان جیسا عمل کرے گا ویسا ہی بدلہ پائے گا، اس لئے نیک اعمال کی کثرت ضروری ہے۔
اصلاحِ اعمال
مسلمان کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ سچ بولے، وعدہ پورا کرے اور دوسروں کے حقوق ادا کرے۔ "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ" صبر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہے۔ یہی صفات ایک مومن کو ممتاز بناتی ہیں۔
مطبوعہ
مطبوعہ: مرکزی دارالافتاء
جلد نمبر: 2
ایڈیشن: جدید
صفحہ نمبر: 145
اختتامیہ
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے، علمِ دین حاصل کرنے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت نصیب فرمائے۔ "رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا" یہی دعا ہر مسلمان کے دل کی آواز ہونی چاہئے۔ آمین۔
مسلک اعلی حضرت پہ قائم رہو m1
زندگی دی گئی ہے اسی کے لیےm2
مسلک اعلی حضرت سلامت رہےm1
ایک پہچان دین نبی کے لیے m2
صلح کلی نبی کا نہیں سنیوm1
سنی مسلم ہے سچا نبی کے لیےm2
اختر قادری خلد میں چل دیاm1
خلد وا ہے ہر اک قادری کے لیےm2
✔ مضمون کاپی ہو گیا















4 thoughts on “یونیورسٹیوں میں نکاح کا غلط رواج”
Assalamualaikum
Assalamualaikum wa rahmatullah
Assalamualaikum wa rahmatullah
As