ناموس رسالت جان ایمان ہے______کثرت سے ناموس رسالت پر حملہ ہو رہا ہے لیکن ہم اب بھی مصلحت پسندی کی تسبیح پڑھ رہے عیش و آرام کے متلاشی ہیں ذہن و فکر کا جمود نہیں ٹوٹ رہا ہے اعلی حضرت فرماتے ہیں علماء کی یہ حالت ہے کہ رئیسوں سے بڑھ کر آرام طلب ہیں ، حمایت مذہب کے نام سے گھبراتے ہیں جو بندۂ خدا اپنی جان اس پر وقف کرے اسے احمق بلکہ مفسد سمجھتے ہیں۔ مداہنت ان کے دلوں میں پیری ہوئی ہے۔ ایام ندوہ میں ہندوستان بھر کا تجربہ ہوا۔ عبارات ندوہ سن کر ضلالت ضلالت کی رٹ لگا دیں ، اور جب کہیے حضرت لکھ دیجیے۔ بھائی لکھواؤ نہیں ۔ ہمارے فلاں دوست برا مانیں گے ۔ ہمارے فلاں استاد کو برا لگے گا۔ بہت کو یہ خیال کہ مفت اوکھلی میں سر دے کر موسل کون کھائے ۔ بد مذہب دشمن ہو جائیں گے ۔ دانتوں پر رکھ لیں گے ، گالیاں ، پھبتیاں اخباروں اشتہاروں میں چھاپیں گے ۔ طرح طرح کے بہتان افتراء اچھا لیں گے ۔ اچھی بچھی جان کو کون جنجال میں ڈالے بعض کو یہ کہ کہ حمایت مذہب کی تو صلح کھلی نہ رہے گی ۔ ہر دل عزیزی جا کر پَلاؤ، قورمے ، نذرانہ میں فرق آئے گا، یاکم از کم آؤ بھگت تو عام نہ رہے گی۔[فتاوی رضویہ جلد 12 ص: 132] خدارا خموشی کے جمود کو توڑیں احقاق حق کے لیے آگے بڑھیں ناموس رسالت پر پہرا دیں ورنہ وہ دن دور نہیں کہ عیش و آرام دنیا طلبی جاہ و حشمت مصلحت پسندی خلوت نشینی بے جا خموشی شخصیت پرستی سب منہ پہ مار دے جائے گی کوئی پرسان حال نہ ہوگا اس لیے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر وہ کاروائی کریں جو آپ کی طاقت میں ہے اور عند اللہ ماجور ہوں




