رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ

رضا بک ریویو پٹنہ جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء پر مرکزی تبصرہ از: محمد جسیم اکرم مرکزی پورنویتخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریفرابطہ نمبر: 9523788434 مرجع العلما سر زمین بہار گہوارۂ علوم و فنون ہے یہاں سے علماء کرام علمی، فکری، ملی، سماجی، تعمیری کارنامے انجام دیتے رہے ہیں خاص کر فرزندان پٹنہ کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے علم تقویت میں یکتائے روزگار حضور ملک العلما تلمیذ و خلیفۂ حضور اعلی حضرت علامہ مفتی سید ظفر الدین قادری فاضل بہاری رضی اللہ عنہ کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جس طرح حضور ملک العلما نے کنز الکرامت جبل الاستقامت اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے افکار و نظریات کی تشہیر بہار میں کی اسی طرح ان کے علمی وارثین اس کام کو آج بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں انھیں میں ایک ذات ستودہ صفات سعادت لوح و قلم اسیر رضویات ماہر رضویات سنیت افروز صلح کلیت سوز شاعر و ادیب مصنف و مدرس حضرت مفتی ڈاکٹر امجد رضا امجد صاحب قبلہ دام ظلہ العالی قاضی شریعت مرکزی ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار جن کے گرانقدر کارناموں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی قیمتی زندگی کو باغ رضویات کی سینچائی کے لیے وقف کر دی ہے تلخیص فتاوی رضویہ ، دو ماہی الرضا پٹنہ، حجۃ الاسلام نمبر ، کنز الایمان نمبر اس پر بین ثبوت ہے انھیں شہ پاروں میں ایک نام سہ ماہی رضا بک ریویو جنوری تا مارچ ٢٠٢٤ء کا ہے جو اس وقت میرے مطالعے کے میز پر بمانند کہکشاں ضوفشاں ہے اس کی مقناطیسی جاذبیت نے مکمل شمارہ اول تا اخیر پڑھنے پر مجبور کر دیا فہرست پر نظر پڑتے ہی بڑی خوشی ہوئی کیونکہ اس میں قیمتی قیمتی مقالے قیمتی شخصیات کے نظر نواز ہوئے خاص کر علامہ مفتی خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ مفتی آل مصطفی مصباحی کٹیہاری قدس سرہ علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی علامہ شبیر حسین غوری مفتی محمود احمد رفاقتی علیہ الرحمہ کے مقالات قابل ذکر ہیں جو قارئین کے لیے بیش بہا معلومات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں اور طالبان علوم نبویہ کے لیے مشعل راہ ہیں شمارے کی ابتدا اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ کے اس کلام سے کیا گیا ہے پھر اٹھا ولولۂ یاد مغیلان عرب پھر کھینچا دامن دل سوئے بیابان عرب پھر اس کے بعد اداریہ ہے جس کا نچوڑ اسی میں موجود اعلی حضرت کا ایک شعر ہے گونج گونج اٹھے ہیں نغمات رضا سے بوستاں کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے اس کے بعد قارئین کرام کے تاثرات جلیلہ ہیں جن میں مفتی توفیق احسن برکاتی استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور، مولانا غلام مصطفی نعیمی ایڈیٹر سواد اعظم دہلی، مولانا محمد صلاح الدین رضوی دار الافتا مرکزی دار العلوم عمادیہ پٹنہ سٹی، مفتی مبشر ازہر مصباحی نوری دار الافتاء بھیونڈی، شامل ہیں آخر الذکر موصوف کی ایک عبارت بہت پسند آئی جو چیف ایڈیٹر ڈاکٹر امجد رضا امجد کی شخصیت کو احسن انداز میں اجاگر کرتی ہے موصوف رقم طراز ہیں:”رضا بک ریویو” کے ذریعہ باب رضویات کی ان تمام تر کامیابیوں کا سہرا، اس کے مدیر با کمال ، میرے دیرینہ کرم گستر ماہر رضویات ڈاکٹر امجد رضا امجد کے سر جاتا ہے، جن کی فکری جولانیت ، اعلیٰ ذہانت و فطانت تحقیقی ذوق طبع اور رضوی خمیر نے اس کاروان علمی کو بام عروج تک پہنچایا ہے، اور ہو بھی کیوں نہ کہ رضا سے جن کا پشتینی تعلق ہو فکر رضا کی ترویج و اشاعت جن کا اوڑھنا بچھونا ہو اور افکار رضا کے بحر بیکراں میں غواصی جن کا محبوب مشغلہ اور رضا فہمی جن کا مطمح نظر ہو۔معزز قارئین! *یقینا یہ سب اتفاق نہیں بلکہ بارگاہ رضا کا منفر د انتخاب ہے،* ص ١١ آئینہ حق نما اس میں اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کی شان و رفعت علمی پر اہل علم و فضل کے اعترافات ہیں ان میں سے علامہ شیخ سید علوی مالکی مفتی مالکیہ مکہ مکرمہ کا اعتراف ملاحظہ فرمائیں “مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی سے ہم لوگ ان کی تصنیفات و تالیفات کے مطالعہ کے ذریعے اچھی طرح سے واقف ہیں۔ عظیم فکر و بصیرت کے حامل، زمانے کے بے مثل فقیہ و محدث ہیں اور عشق رسول میں تو وہ اپنے وقت کے امام تھے ۔ ان سے محبت سنیت کی علامت ہے ان سے بغض و عداوت بدعت کی علامت ہے ۔ ( دبستان رضاص ۱۴۸)” ص ١٣دیگر جید علماء کرام کے اعترافات پڑھنے کے لیے شمارے کی طرف رجوع فرمائیں امام احمد رضا اور اسلامی ریاضی و ہیئت یہ مقالہ وارث علوم اعلی حضرت خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند امام المنطق و الفلسفہ علامہ خواجہ مظفر حسین رضوی پورنوی قدس سرہ القوی کا ہے جس میں خواجہ صاحب نے ریاضی و ہیئت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا ہے فرماتے ہیں: “تمام علوم پر جس طرح علم ریاضی محیط ہے اسی طرح تمام علوم سے قدیم بھی ہے قیاسی طور پر اگر اس پہلو پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعۃ علم ریاضی قدیم ترین ماخذ علم ہے” ص ٢٠ پھر اس قدیم ترین علم کے ساتھ علماء مدارس نے کس قدر بے اعتنائی بخشی اس کا شکوہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں “علوم عقلیہ و نقلیہ ، قدیمہ و جدیدہ سب پر امتناعی حکم لگ چکا تھا۔ مگر خاکستر میں دبی ہوئی چنگاری . کو پھر احساس کی ہوا نے شعلۂ جوالہ بنادیا اور طبقاتی طور پر دو نظر یے ابھر کر سامنے آئے۔ کچھ نے صرف علوم نقلیہ کو بچا کر دین متین کی حفاظت کرنا اپنا فرض منصبی سمجھا یہ گروہ مدارس عربیہ کے علماء و اساتذہ کا تھا۔ جہاں علوم عقلیہ کی طرف برائے نام توجہ کی گئی اور ریاضی و ہیئت کو چند ابتدائی اصول تک محدود رکھ کر نصاب میں شامل کیا گیا۔ تدریب اور مشق کو فرو گذاشت کر دیا گیا جس سے یہ علوم مدارس میں رہتے ہوئے بھی صفر ہو گئے کچھ نے علوم عقلیہ کی طرف توجہ کی اس نے نقل کو ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دینی پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے نصاب کی ترتیب ہوئی یہ گروہ کالج اور اسکول کا تھا۔ علم نظری مداریح اٹھتا چلا گیا یہاں تک کہ ۱۸۵۶ء جو امام احمد رضا کی پیدائش کا سال ہے میں مدارس عربیہ ریاضی و ہیئت سے قریب قریب خالی ہو چکے تھے ۔ یہ ایسا انحطاطی دور تھا جس کی مسموم فضاء میں اسلامی ریاضی و ہیئت کا تصور ارتقائی نہ صرف مجنونانہ بلکہ احمقانہ تھا” ص ٢٣ بعدہ ان علوم قدیمہ کو اس قحط زدہ انحطاطی دور میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی قدس سرہ نے کس طرح زندہ کیا اس پر روشنی ڈالتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں “ریاضی و ہیئت میں فاضل بریلوی کی تعلیم اپنے پدر بزرگوار کے فیض تلمذ کا نتیجہ تھی جس کی تفصیل انہوں نے اپنی مایہ ناز تصنیف ” میں دی ہے فرماتے ہیں۔ “فقیر کا درس بحمدہ تعالی تیرہ برس دس مہینے چار دن کی عمر میں ختم ہوا اس کے بعد چند سال تک طلبہ کو پڑھایا فلسفہ جدیدہ سے کوئی تعلق ہی نہ تھا علوم ریاضیہ و ہندسیہ میں فقیر کی تمام تحصیل جمع و تفریق ، ضرب تقسیم کے چار قاعدے کہ بہت بچپن میں اس غرض سے سیکھے تھے کہ فرائض میں کام آئیں گے، اور صرف شکل اول تحریر اقلیدس کی وبس جس دن یہ شکل حضرت اقدس حجة الله فی الارضین معجزة من معجزات سید المرسلین علیہم اجمعین خاتم المحققين سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی ۔ ارشاد فرمایا کہ تم اپنے علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو ان علوم کو خود حاصل کر لو گے” یہ تھی کل کائنات ریاضی و ہیئت میں اساتذہ سے تحصیل کی [تشریح] شیخ بو علی سینا کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے بھی اپنے استاذ سے ریاضی و ہیئت کی بہت کم تعلیم حاصل کی تھی مگر بعد میں اپنے ذاتی مطالعہ سے اس میں چار چاند لگائے مگر فاضل بریلوی کا معاملہ اس سے بھی عجیب تر ہے۔ علوم دینیہ میں انہماک اتنا تھا کہ کسی اور طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی ۔ خود فرماتے ہیں : آج ۴۵ برس سے زائد ہوئے کہ بحمدہ تعالیٰ فلسفہ کی طرف رخ نہ کیا نہ اس کی کسی کتاب کو کھول کر دیکھا۔لیکن اس عدم التفات واعتناء کے باوجو شفیق استاد کی پیش گوئی پوری ہوئی چنانچہ فرماتے ہیں۔اللہ عز وجل اپنے مقبول بندوں کے ارشاد میں برکتیں رکھتا ہے حسب ارشاد سامی بعونہ تعالیٰ فقیر نے حساب و جبر و مقابلہ و لوگارثم وعلم مربعات و علم مثلث کروی و علم ہیئت قدیم و ہیئات جدیدہ زیجات و ارثماصیقی وغیرہا میں تصنیفات فائقہ اور تحریرات را ئقہ لکھیں اور صدہا قواعد وضوابط خود ایجاد کئے تحدثا نعمۃ اللہ تعالی بحمد اللہ تعالی اس ارشاد اقدس کی تصدیق تھی کہ ان کو خود حاصل کر لو گے ۔ مذکورہ بالا تحریر کے پیش نظر منکسرانہ تسنیم کے بعد جب ہم ان کی ریاضی اور دیگر علوم کے متعلق ان کی تصنیفات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں کہ ایسے قحط زدہ اور انحطاطی دور میں آپ نے نہ صرف اس علم کو اجاگر فر مایا بلکہ بالفاظ دیگر زندہ بھی کیا ہے حاشیہ رسالۂ لوگارثم ، حاشیہ جامع بہادر خانی ، حاشیہ رسالہ علم مثلث کروی ، تعلیقات علی الزیج الیخانی ، اور حاشیہ تحریر اقلیدس جیسی نابغہ روزگار تصنیفات زبان حال سے واشگاف انداز میں اعتراف حقیقت کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کنج خمولی میں بیٹھ کر وہ بھی دینی امور کی بے پناہ مشغولیت کے باوجود یہ انیق تحریریں جنہیں دیکھ کر ہر صاحب نظر انگشت بدنداں ہو جائے جبکہ کسی فن کی ادنی غیر استدلالی تصنیف کے لئے عمیق مطالعہ وسعت نظر اور فکر پروازی جیسے کتنے اسباب کے فراہمی کی ضرورت پڑتی ہے اور یہاں قلم اٹھا تو چلتا ہی رہا” ص ٢٤_٢٥ امام احمد رضا رضی اللہ عنہ کے والد ماجد رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان کا قول مبارک “ان کو خود حاصل کر لوگے” جہاں ان کی ولایت کی گواہی دیتا ہے وہیں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ بعض علوم میں مہارت حاصل کرنے سے دیگر علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور امام احمد رضا رضی اللہ کو صرف رہنمائی نہیں بلکہ مہارت تامہ کاملہ حاصل ہوئی بلکہ خود صدہا قواعد بھی ایجاد کیے راقم الحروف نے غالبا ثالثہ میں نحوی پہلیاں نامی کتاب میں پڑھا تھا کہ امام نحو فرا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ایک علم میں مہارت حاصل کر لینے سے دوسرے علوم میں بھی رہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اس پر حضرت امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم علم نحو میں کامل مہارت رکھتے ہو ، اپنے علم کی روشنی میں بتاؤ کہ اگر کسی شخص کو نماز میں سہو ہو جائے اور جب وہ سجدۂ سہو ادا کرے تو سجدہ سہو کے دوران پھر سہو ہو جائے تو اس پر دوبارہ سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ امام فرا نے جواب دیا کہ اس کے لئے وہی سجدہ سہو کافی ہے دوبارہ سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ امام محمد نے دریافت فرمایا کہ تم نے علم نحو کے کس اصول سے اس مسئلہ کا استخراج کیا ؟ فرا نے جواب دیا کہ ” المصغر لا يصغر” تصغیر کی تصغیر نہیں آتی۔ اس قاعدہ پر قیاس کر کے میں نے یہ مسئلہ معلوم کر لیا {نحوی پہلیاں ص ١٦_١٧} حضور اعلی حضرت کے علم سے اس واقعے کی تصدیق مزید ہوجاتی ہے اور تطمئن القلب حاصل ہوتا ہے کہ حضور اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کو جو علوم عقلیہ پر کامل دسترس حاصل تھا یہ علوم دینیہ پر مہارت تامہ کی برکتیں تھیں اس لیے آج علما کو بھی چاہیے کم از کم کسی ایک علم پر ضرور مہارت تامہ حاصل کریں دریا اگر چہ نہ ملے لیکن دریائے رضا سے ایک قطرہ تو ضرور مل جائے گا جو سیکڑوں دریا پر فوقیت لے جانے کو کافی ہے جد الممتار: امام احمد رضا کا فقہی شاہکار یہ مقالہ خیر الاذکیا علامہ محمد احمد اعظمی مصباحی دام ظلہ العالی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کا ہے جو جد الممتار جلد دوم از اعلی حضرت رضی اللہ کے محاسن و خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے جد الممتار حاشیہ رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار از علامہ سید محمد امین ابن عمر عابدین شامی رضی اللہ عنہ کا گرانقدر معلوماتی حاشیۂ جلیلہ ہے جو اعلی حضرت ہی کا خاصہ ہے اسی بابت مصباحی صاحب قبلہ رقم طراز ہیں “ایسے عظیم الشان اور جامع محاسن حاشیے کے کچھ پیچیدہ مقدمات کی توضیح و تشریح اور مشکلات سے متعلق کچھ تقریرات تو لکھی جاسکتی ہیں مگر اس پر کوئی گراں قدر اضافہ انتہائی مشکل ہے لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سره (۱۲۷۲ھ – ۱۳۴۰ھ ) نے اس مشکل کو بڑی کامیابی کے ساتھ سر کیا ہے۔” ص ٣١ مصباحی صاحب قبلہ کا یہ پورا مقالہ قابل مطالعہ ہے معلومات کا بیش بہا ذخیرہ ہے جو ان قیمتی جواہر پاروں میں مشتمل ہے (١) فکر انگیز تحقیقات (۲) کثیر جزئیات کی فراہمی یا مزید جزئیات کا استخراج (۳) لغزش و خطا پر تنبیہات (۴) حل اشکالات اور جواب اعتراضات (۵) فقہی تبحر اور وسعت نظر (۶) شرح و حاشیہ کے مراجع اور حوالوں میں اضافہ (۷) غیر منصوص احکام کا استنباط (۸) علم حدیث میں کمال اور قوت استنباط و استدلال (۹) دلیل طلب احکام کے لئے دلائل کی فراہمی (۱۰) مختلف اقوال میں تطبیق (11) مختلف اقوال میں ترجیح (۱۲) اصول و ضوابط کی ایجاد یا ان پر تنبیہات اور رسم مفتی و قواعد افتا میں ہدایات (۱۳) مختلف علوم میں مہارت اور فقہ کے لئے ان کا استعمال (١٤) مختصر الفاظ میں بیش قیمت افادات اور جد الممتار کا حسن ایجاز ان عنوانات پر لکھنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے لیکن علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی کا یہ کمال فن ہے کہ کوزے میں سمندر کو سمو دیا ہے اور تمام عنوانات کے تحت اختصاراً دلائل و براہین کے ذریعے عمدہ کلام فرمایا ہے “مخلتف اقوال میں ترجیح” عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں: مشہور یہ ہے کہ بیع فاسد و باطل میں تو فرق ہے مگر نکاح فاسد و باطل میں کوئی فرق نہیں اور صحیح یہ ہے کہ ان دونوں میں بھی متعدد احکام میں فرق ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں، دونوں میں سوائے عدت کے اور کسی چیز میں فرق نہیں۔ اس پر جد المتار میں ہے۔ بلکہ متعدد چیزوں میں فرق ہے ۔ ( دوم ) یہ کہ فاسد میں ثبوت نسب ہوتا ہے اور باطل میں نہیں ہوتا ( سوم ) فاسد میں مہر مثل واجب ہوتا ہے مگر وقت عقد جتنا ذکر کیا تھا اس سے زیادہ نہ دیا جائے گا۔ اور باطل میں مہر مثل واجب ہوگا، جتنا بھی ہو۔ کیونکہ یہاں عقد کے وقت باندھنا باطل قرار پایا، تو گویا کی مہر کانام ہی نہ لیا گیا، (چہارم ) نکاح فاسد میں فساد ملک ہوتا ہے، اور باطل میں عدم ملک، وہ اس لئے کہ باطل کا شرعا کوئی وجودہی نہیں، اگر چہ عقد باطل کی صورت ظاہر کا وفع حد میں اعتبار ہو گیا ہے ۔ ( پنجم ) نکاح فاسد میں وطیِ حرام ہے زنا نہیں اور باطل میں محض زنا ہے، اگر چہ اس پر حد نہ جاری ہو، کیونکہ یہ زنا موجب حد نہیں، تو اس پر آخرت میں زانیوں کا عذاب ہو گا اور اول پر اس کا عذاب ہو گا جس نے زنا سے کمتر کسی حرام کا ارتکاب کیا ۔ (ششم) مجھے یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ فاسد کے برخلاف باطل میں متارکہ کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ معدوم کے لئے کوئی حکم نہیں ہوتا۔ مختصر نکاح فاسد و باطل کے درمیان فرق میں یہ ضوابط یکجا کہیں نہ ملیں گے، بلکہ متفرقا ان سب کا ملنا مشکل ہے مذکورہ بالا عبارت میں جو اعلی حضرت رضی اللہ عنہ نے کمال فن کا مظاہرہ فرمایا ہے عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ان چیزوں کا احساس اس کو اچھی طرح ہوگا جس نے مسائل کی تلاش و جستجو میں ایک عمر گزاری ہو پہلا عنوان فکر انگیز تحقیقات کے تحت رقم طراز ہیں: حسن بن علی سے اس عورت کے بارے میں سوال ہوا جس کے پاس جواہر اور موتیوں کے زیورات ہیں جنہیں وہ عید کے موقع پر اور شوہر کے سامنے آرائش کے طور پر پہنتی ہے۔ یہ تجارت کی غرض سے نہیں ہیں ۔ کیا ایسی عورت پر صدقہ فطر واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا، ہاں جب بقدر نصاب ہوں – اور اس سے متعلق عمر حافظ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: اس پر کچھ واجب نہیں ۔ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حسن بن علی کے نزدیک عورت کے موتی اور جواہر کے زیورات اگر نصاب کی تعداد کو پہنچ جائیں تو اس پر صدقہ فطر واجب ہے اور عمر حافظ کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں۔ علامہ شامی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد اس سے درج ذیل نتیجہ نکالتے ہیں : اس کا حاصل در حاصل اس بات میں اختلاف ہے کہ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات حاجت اصلیہ سے ہیں یا نہیں؟ یعنی مذکورہ اختلاف کی بنیاد ایک دوسرے اختلاف پر ہے جو لوگ سونے چاندی کے علاوہ دیگر زیورات کو حاجت اصلیہ سے شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک عورت پر صدقۂ فطر اور زکاة نہیں اور جو حاجت اصلیہ سے شمار نہیں کرتے ان کے نزدیک اس پر صدقۂ و زکوۃ ہے۔ اس پر امام احمد رضا رقم طراز ہیں ۔ اقول اجمع اصحابنا علی ایجاب الزكوة في الحلى و لو كان من الحوائج الاصليه لم يجب لم يبق للخلاف محل (۳) میں کہتا ہوں ہمارے علمائے حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ زیورات میں زکاۃ واجب ہے اگر حاجت اصلیہ سے ہوتے تو زکاة واجب نہ ہوتی، تو کوئی جائے اختلاف نہ رہی ۔” اس استدلال کی توضیح یہ ہے کہ حنفیہ کا اس پر اجماع ہے کہ سونے چاندی کے زیورات پر زکاۃ فرض ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں، اس لئے کہ حاجت اصلیہ کے سامانوں پر زکاة فرض نہیں ہوتی ۔ اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں ۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکاۃ فرض ہوگی اور صدقہ فطر بھی واجب ہوگا۔ مختصر سی عبارت میں امام احمد رضا نے اختلاف و اشکال کی جو دلپسند عقدہ کشائی کی ہے وہ ان ہی کے قلم کا حصہ ہے۔ استدلال اتنا قوی ، نادر اور فکر انگیز ہے کہ بصیرت جھوم اٹھتی ہے۔ ص ٣٤ بلا شبہ اعلی حضرت رضی اللہ نے مسئلے کا تصفیہ اس انداز سے فرمایا کہ ایک سطر میں اختلاف بھی رفع ہو گیا اور مسئلے کی صحیح تفہیم بھی ہو گئی لیکن راقم الحروف کے نزدیک علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ العالی کی درج ذیل عبارت “اور جب سونے چاندی کے زیورات حاجت اصلیہ سے نہیں تو ہیرے جواہر اور موتیوں کے زیورات بھی حاجت اصلیہ سے نہیں۔ لہذا یہ اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو بلا اختلاف ان پر زکوۃ فرض ہوگی” محل نظر ہے کیونکہ اس سے یہ مستفاد ہو رہا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر نصاب کی مقدار کو پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ فرض ہے جب کہ در المختار ہی میں اس کے برعکس مسئلہ مندرج ہے (لا زكاة في اللآلئ والجواهر) وإن ساوت ألفاً اتفاقاً (إلا أن تكون للتجارة) ج ٣ ص ١٩٤ حاشیہ رد المحتار میں ہے (والجواهر) كاللؤلؤ والياقوت والزمرد وأمثالها. درر عن الكافي.ج ٣ ص ١٩٤ فتاوی عالمگیری میں ہے : “أما اليواقيت واللآلی و الجواھر فلا زکوٰۃ فیھا و ان کانت حلیا الا ان تکون للتجارۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ” ج ١ ص ١٨٠فتاوی افریقہ میں خود اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زکوٰۃ صرف تین مالوں پر ہے :اول : سونا، چاندی اور نوٹ شلنگ اور اکنیاں اور پیسے بھی جب تک بازار میں چلیں اسی میں داخل ہیں۔ دوم: تجارت کے لیے جو مال خریدا اگر چہ مٹی ہو سوم: چرائی پر چھوٹے ہوئے اونٹ، گائے ، بھینس، بھیڑ، بکر، سب کے سب نر ہوں خواہ مادہ ۔اور امام کے نزدیک گھوڑی بھی نیز گھوڑا اگر جوڑا ہو، ان کے سوا کسی شئ پر زکوۃ نہیں اگر چہ لاکھوں روپے کے دیہات، مکانات، موتی، جواہر ہوں[ص: 41] بہار شریعت میں ہے: موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکاۃ واجب نہیں ، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکاۃ لے نہیں سکتا۔ ج ١ ح ٥ ص ٩٣٠ بہار شریعت میں ایک دوسری جگہ ہے: فیروزہ و یاقوت و زمرد و دیگر جواہر اور سرمہ، پھٹکری، چونا، موتی میں اور نمک وغیرہ بہنے والی چیزوں میں خمس نہیں ۔ج ١ ح ٥ ص ٩١٢ ان تمام مذکورہ بالا عبارتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہیرے موتی جواہر اگر تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان پر زکوٰۃ نہیں اگر چہ وہ زیورات ہی کیوں نہ ہوں قارئین کرام اگر مجھ ناقص العلم راقم الحروف کی تفہیم میں کوئی کمی ہو تو ضرور مطلع فرما کر ممنون و مشکور فرمائیں اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے رازیہ مقالہ علامہ شبیر احمد غوری کا ہے اس میں تحقیقی و تنقیدی بحث کی گئی ہے اور امام احمد رضا خان قادری فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کو اسلامی ریاضی و ہیئت کا آخری دانائے راز بتایا گیا ہے علمی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے یہ بات صد فیصد درست معلوم ہوتی ہے تحریر کے مطالعے سے راقم الحروف کو لگتا ہے کہ اس تحریر کو لکھنے کی خاص وجہ مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوئے علماء مدارس کو اس کی تعمیری کاروائی کی طرف راغب کرنا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں: مدارس میں ریاضی و ہیئت کی زبوں حالی :- ۱۹۴۶ء میں بکار سرکار مجھے ایک مدرسہ کے معائنہ کے لئے جانا پڑا ۔ اسی دوران مجھے ہندوستان کی ایک عظیم دینی درسگاہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا جس کی تفصیل غیر ضروری ہے۔ آخر میں نائب مہتمم صاحب جنہیں مجھے مدرسہ دکھانے کی خدمت سونپی گئی تھی ، اپنے درجہ میں لے گئے جہاں وہ ایک طالب علم کو تحریر اقلیدس” پڑھاتے تھے۔ وہاں ان کا اصرار ہوا کہ میں اس طالب علم سے کچھ سوال کروں ۔ مجھے اس اصرار سے سخت کوفت ہوئی ۔ میں زیارت کے لئے گیا تھا، طلبہ کا امتحان لینے نہیں گیا تھا مگر ان صاحب کو میرا امتحان لینا مقصد تھا کہ میں عربی کا ایم اے سی مدارس عربیہ میں پڑھائے جانے والے علوم حکمیہ کے اندر کتنے پانی میں ہوں ۔ اصول اقلیدس مقالہ اولی میں جو مدارس کے نصاب میں علم ہندسہ کی آخری کتاب ہے ) اڑتالیس شکلیں ہیں اور یہ اشکال بہ ترتیب جدید آج کی تو خبر نہیں مگر اس زمانہ (۱۹۴۶ء) میں مڈل اسکولوں کے ساتویں اور آٹھویں درجے میں پڑھادی جاتی تھی ۔ جب ان کا اصرار اس حد تک بڑھا کہ تماشائی طلبہ میری اس علمی بے مائیگی پر تالیاں بجانے لگے تو پھر بادل ناخواستہ اس طالب علم سے یہ شکل ثابت کرنے کے لئے کہا کہ اگر ایک خط مستقیم دو متوازی خطوط مستقیم کو کاٹے تو زاویائے متبادلہ برابر ہوں گے ۔ لڑکا نو گرفتار قفس تھا کسی انٹرمیڈیٹ کالج سے انٹر کر کے آیا تھا۔ اس نے فورا کاپی پنسل اٹھائی اور جس طرح اس زمانہ میں اسکولوں کے اندر یہ شکل پڑھائی جاتی تھی اس – نے بھی ثابت کر دی ۔ میں نے کہا صاحبزادے اس طرح نہیں چلے گا۔ جس طرح تمھاری اس عربی “تحریر اقلیدس” میں یہ شکل ثابت ہوتی ہے اس طرح ثابت کرو ۔ مگر وہ کسی طرح ثابت نہ کر سکا۔ مجبوراً میں نے ان نائب مہتمم صاحب سے درخواست کی کہ وہ اسے پھر سے پڑھائیں ۔ وہ ایک کہنہ مشق استاد تھے ، پڑھا دیا۔ یہ تحریر اصول اقلیدس کی انتیسویں شکل تھی ۔ جب وہ ذالک ما اردناہ ( جسے ہم انگریزی میں Q.E.D کہا کرتے ہیں) پر پہونچے تو کتاب بند کرنے لگے۔ میں نے عرض کیا آگے اور پڑھائیے ، مگر وہ صاحب کسی طرح تیار نہ ہوئے سبب یہ بتایا کہ یہ حصہ متروک التعلیم ہے۔ میں نے عرض کیا متروک التعلیم ہےتو کیا ہوا ممنوع التعلیم تو نہیں ہے۔ اگر اس میں قرآن وحدیث کی رو سے کوئی الحاد و بے دینی ہے تو پھر یہ حصہ چھاپا ہی کیوں جاتا ہے؟ فرمایا یہ تو میں نہیں جانتا مگر جب میرے استاد مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو انھوں نے اسے نہیں پڑھایا اور فرمانے لگے کہ جب میرے استاد بھی مجھے پڑھاتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تھے تو انہوں نے بھی اسے پڑھانے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔ ص ٥٨آگے نتیجہ منتج کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں”ان افاضل نے ریاضی و ہیئت میں جو ورثہ اپنے اسلاف سے پایا تھا اسے اور کچھ نہیں تو کم از کم باقی رکھنے کی بھی کوشش نہیں کی” ص ٥٩ پھر اس مبینہ متروک التعلیم حصہ کو جن علما نے پڑھایا اور اس پر حواشی تحریر کیے ان میں سے بعض کے اسما شمار کروائے جن میں مولوی برکت اللہ مولوی محمد عبد القادر لدھیانوی قابل ذکر ہیں بلکہ ان کے زمانے میں ان کے شاگردوں کے شاگردوں کا زمانہ ١٩٠٠ء تک مبینہ متروک التعلیم حصہ شامل نصاب تھا پھر ایک یہ زمانہ آیا کہ جو پڑھا لکھا تھا نیاز نے اسے صاف دل بھلا دیایہ ایک امر حقیقت کہ ہے مدارس اسلامیہ ان علوم سے خالی ہو چکے ہیں جہاں ہیں بھی تو نام کے افسوس کہ ہم اپنے اسلاف کے نقوش میں بذریعۂ توضیح و تشریح اضافہ تو دور متون کی تفہیم بھی باقی نہ رکھ سکےان علوم کی طرف خاصی توجہ کی ضرورت ہے

 

Spread knowledge and gain great rewards

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top