حب الوطن من الایمان

حب الوطن من الایمان فتاوی رضویہ شریف میں حضور اعلی حضرت قدس سرہ العزیز نے علمائے محدثین کے حوالے سے فرمایا کہ یہ حدیث نہیں ہے اور نہ اس کے یہ معنی ہے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ عز وجل نے قرآن عظیم میں ان بندوں کی کمال مدح فرمائی جو اللہ جل و علا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اپنا وطن چھوڑیں یار و دیار سے منہ موڑیں اور ان کی سخت مذمت فرمائی جو حب وطن لیے بیٹھے رہے [دیکھیے سورۃ النساء آیت ٩٧، مرکزی]پھر چند سطور کے بعد اس مقولے کا اصل معنی و مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں وہ وطن جس کی محبت ایمان سے ہے وطن اصلی ہے جہاں سے آدمی آیا ہے اور جہاں جانا ہے [یعنی جنت : مرکزی] دنیا تو مسافر خانہ ہے ، کن فی الدنیا کانک غریب و عابر سبیل و حسبنا اللہ و نعم الوکیل(فتاوی رضویہ شریف قدیم جلد ششم ص ٢٠٥ مطبوعہ رضا آفسیٹ ممبئی ١٩٩٤ ء) قارئین کرام! یہ بہت مفید توضیح و تشریح ہے لہذا اپنے خانۂ ذہن میں اسے محفوظ فرمالیں ان شاءاللہ تعالیٰ جا بجا کام آئے گی از____محمد جسیم اکرم مرکزی

 

Spread knowledge and gain great rewards

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top