نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ فَاَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمْ بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ

اوراق کتب کی ورق گردانی کرنے سے یہ بات اظہر من الشمس وابین من الامس معلوم ہوتی ہے کہ جب جب فتنوں نے اپنا سر ابھارا تو اس کی سرکوبی کے لیے اللہ رب العزت نے اپنے کارخانہ قدرت سے کسی نہ کسی مرد مجاہد کو اس خاک دانے گیتی میں بھیجا جس نے اپنی علمی صلاحیت و عملی کارنامے سے ان فتنوں کے تابوت پر آخری کیل ٹھونک دی۔ اور اپنی ذات کی تجلی سے پوری کائنات کو روشن کیا جس کے سائے تلے امت مسلمہ نے اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت کی خاطر پناہ لی۔انہیں ذوات قدسیہ میں سے ایک ذات جو متقی،عابد،زاہد،عالم اورمفتی ہے۔امت کا غم خوار اور روشن ضمیر ہے۔حسن کردار و گفتار سے مزین و مرصع ہے۔جس کی شجاعت و بہادری، فہم و فراست،ایثارو قربانی نیم روز کی طرح عیاں ہے۔جو انتخاب اعلی حضرت ہیں،خلیفہ حجۃ الاسلام ہیں،رئیس اڈیشہ ہیں،مجاہد ملت ہیں، یعنی سرچشمہ رشد و ہدایت،سراج السالکین،نورالعارفین مفتی محمد حبیب الرحمٰن عباسی ہاشمی علیہ الرحمہ ہیں ۔

مجاہد ملت کی ذات محتاج تعارف نہیں۔عرب و عجم کا ہر خطہ آپ کے فیوض و برکات سے اب بھی فیضیاب ہو رہا ہے۔مسلک اہل سنت مسلک اعلیٰ حضرت کے لیے جو قربانیاں آپ نے پیش کیں وہ گزرے ہوئے کل کی طرح روشن وتابناک ہیں۔آپ نے اپنے کارنامے سے کتب توارخ میں ایک روشن بار قائم کیا جس کی ضیاء سے امت مسلمہ کا ایک بڑا حصہ اب بھی مسلک حق مسلک اعلی حضرت پر ثابت وقائم ہے۔

مجاہد ملت کی ذات مختلف عناوین کا مجموعہ تھی۔خوف خدا کا عالم یہ تھا کہ رات بھر عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے ۔آپ کا پورا وقت ذکر و اذکار میں گزرتا ۔علامہ عبدالقدیر بدایونی علیہ الرحمہ مجاہد ملت کے خوف و تقویٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:” ہمارا اور مولانا حبیب الرحمٰن کا یہ فرق ہے کہ ہم لوگ سب سے ڈرتے ہیں خدا سے نہیں ڈرتے اور مولانا حبیب الرحمٰن کسی سے نہیں ڈرتے صرف خدا سے ڈرتے ہیں۔(مجاہد ملت نمبر )عشق رسول آپ میں اس قدر سرایت کر چکا تھا کہ آپ کاشب و روز سنت مصطفی کے مطابق گزرتا ۔کوئی بھی کام جوسنت کے خلاف ہو آپ سے صادر نہ ہوتا۔جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک آتاتو آپ کا پورا وجود محبت رسول سے سرشار نظر آتا ۔آپ کے چہرے پر بشاشت طاری ہو جاتی ۔شان صحابہ و اہل بیت کے ذکر کے وقت ادب و تعظیم کا خاص خیال رکھتے کہ کہیں راندہ خاصان خدا نہ ہو جائیں۔ بزرگان دین کی بارگاہ میں پلکیں بچھائے رکھتے۔

قوم مسلم کا درد آپ کے سینے میں موجزن رہتا۔دنیا کے کسی بھی کونے میں امت مسلمہ پر ظلم کیا جاتا تو آپ مضطرب ہو جاتے۔قوم مسلم کی فکر آپ کو سونے نہیں دیتی ۔ان کی فلاح و بہبودی کی خاطر ہر آلام و مصائب سے لڑنے کے لیے تیار رہتے۔ ان کے مستقبل کے لیے اپنی عیش و آرام کی زندگی ترک کر دی

دینی،دنیوی،سیاسی،سماجی،ملی و آفاقی ہر میدان میں قوم مسلم کے عروج و ارتقاء کی خاطر قربانی پیش کی۔اپنی زندگی کی ہر سانس مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کر دی۔یہی وجہ تھی کہ خانوادء رضویہ کے آپ محبوب و محب ہو گئے۔آپ اعلیٰ حضرت کی زندہ کرامت تھے۔ اعلیٰ حضرت نے آپ کو جس کام کے لیے منتخب کیا تھا اس کے لیے جیل کی سلاخوں میں قید کیے گئے،تپتی ہوئی ریت پر لٹائے گئے،صحراء اور جنگلوں کا سفر کیا پھر بھی آپ کے چہرے پر رنج و ملال کے آثار ظاہر نہ ہوئے۔ اتنی تکلیفیں پانے کے باوجود اپنے مشن پر کوہ ہمالہ کی طرح ثابت و قائم رہے۔ آج صوبہء اڈیشہ،الہ باد ،بنارس اور بنگال میں جو علماء و عوام کے دلوں میں مسلک اعلیٰ حضرت کی محبت اور اس پر ثابت قدمی کو دیکھ کر یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپ نے ہمیشہ ہرآن لوگوں کو یہی تلقین کی

مسلک اعلیٰ حضرت پہ قائم رہو زندگی دی گئی ہے اسی کے لیے۔

فن درس و تدریس میں مکمل مہارت حاصل تھی۔ مشکل سے مشکل پیچیدہ عبارتوں کو اتنا آسان و سہل بنا کر طلبہ کے سامنے پیش کرتے کہ ادنیٰ درجہ کا طالب علم بھی بآسانی سمجھ جاتا۔ طلبہ کے سامنے ایسی نفیس و عمدہ تقریر فرماتے کہ سبق کا پورا مفہوم ذہن میں اتر جاتا ۔یہ مہارت صرف ایک یا دو علوم میں نہیں تھی بلکہ درس نظامی میں شامل تمام علوم میں مکمل دسترس حاصل تھی۔ بحرالعلوم علامہ عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ مجاہد ملت کی علمی لیاقت کے متعلق فرماتے ہیں :”میری نگاہ میں آپ اپنے وقت کے ایک عبقری عالم تھے۔ اندازہ ہے کہ درس نظامی میں جتنے علوم عام طور سے پڑھائے جاتے ہیں مولانا رحمتہ اللہ علیہ کو ان پر ماہرانہ دسترس حاصل تھی اور غیر معمولی استحضار تھا۔ دھوم اگرچہ علوم عقلیہ میں تھی ۔لیکن حدیث وفقہ، تفسیر و کلام کون سا علم تھا جس پر آپ کو یکساں قدرت حاصل نہ ہو (حیات مجاہد ملت )۔

مجاہد ملت میدان مناظرہ کے شہسوار تھے ۔مناظرہ کی خبر ملتے ہی آپ بیچین ہو جاتے اور اس میں شرکت کی ہر ممکن سعی کرتے ۔جس بھی مناظرہ میں آپ کی حاضری ہوتی اس میں اعداء دین کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اللہ کے فضل سے جس مناظرے میں شامل ہوئے اس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے عقائد باطلہ سے تائب ہو کر راہ راست پر گامزن ہوئے۔

مجاہد ملت کی زندگی کے جس پہلو پر قلم اٹھایا جائے اس کے لیے ایک دفتر بھی کافی نہ ہوگا ۔

میں نے ان کے بحر فیوض و برکات سے کچھ حصہ اپنے کاسہ میں لینے کے لیے یہ مختصر سا مضمون قلم بند کیا ہے ۔

اللّٰہ تعالی میری اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور مجاہد ملت کے فیوض و برکات سے وافر حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔

از۔احقر محمد قربان رضا مرکزی جئے پٹنہ ، اڈیشہ

یہ پیغام شیئر کریں اور اجرِ عظیم حاصل کریں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top